شہر خموشاں

“فضہ! بازار جانے کے لیے جلدی نکلیں۔ دیر ہو رہی ہے۔” فضہ کے شوہر نے گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے اسے مخاطب کیا جو بچوں کو گھر میں لڑائی نہ کرنے اور اطمینان و سکون سے رہنے کی تاکید کر رہی تھی۔
“جی! میں بس ابھی آ رہی ہوں۔” اس نے جواب دیا اور جلدی سے بچوں کو اللہ حافظ کہہ کر اور سلام کرکے باہر آگئی۔
فضہ اور اس کے اہل خانہ نے لاک ڈاؤن کے دوران احتیاطی تدابیر (SOPs) اختیار کرتے ہوئے تقریباً چار پانچ ماہ کا عرصہ گھر میں گزارا تھا اور کہیں بھی جانے سے اجتناب کیا تھا۔ ان سب کی خصوصاً اس کے شوہر کی محتاط طبیعت کی وجہ سے ان کے گھر میں بھی عزیز و اقارب کی آمد و رفت کم رہی تھی۔ تاہم موبائل اور انٹرنیٹ پر تقریباً تمام متعلقہ لوگوں سے وقتاً فوقتاً رابطہ رہتا تھا۔
پھر لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران ایک دن انہوں نے ضروری خریداری کے لیے بازار جانے کا فیصلہ کیا۔ احتیاط کے پیش نظر وہ تمام بچوں کو گھر میں انکی دادی اماں کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ بچے چونکہ اپنی شاپنگ اپنی مرضی سے کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ ان کے ساتھ جانے کےلیے بہت اصرار کررہے تھے لیکن وہ کسی بچے کو ساتھ لے کر جانے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تھے۔
پہلے فضہ کے شوہر اور پھر وہ خود بچوں کو ضروری ہدایات دے کر گھر سے باہر نکلے۔ ان کا خیال تھا کہ آج بازار کھلے ہونگے۔ وہ سفر کی دعاپڑھ کر روانہ ہو گئے۔ بازار گھر سے تقریباً پونے گھنٹے کی مسافت پر واقع تھا۔ راستے میں ٹریفک اور لوگوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔
بازار پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ آج بازار بند ہیں۔ تمام دکانوں کے شٹر نیچے گرے ہوئے تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا اور ہو کا عالم طاری تھا۔ قبرستان جیسی پھیلی خاموشی اسے پریشانی اور اضطراب میں مبتلا کر گئی۔ بند بازار دیکھ کر فضہ کے دل کو قلق ہوا۔ اسکے ساتھ ساتھ اسے وقت کے ضیاع کا احساس ہونے لگا۔ اس کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ “آپ نے گھر سے نکلنے سے پہلے تسلی کیوں نہیں کرلی تھی کہ آج بازار کھلا ہے یا بند؟”

پھر وہ مزید کہنے لگی کہ “کتنا افسوس ہو رہا ہے! اتنی مشکل سے ہمت کرکے آج بازار آئے ہیں تو اب بازار بند ہیں۔اور خریداری ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم بچوں کو اپنے ساتھ لے کر نہیں آئے۔ ورنہ انہوں نے بہت تنگ کرنا تھا۔”
یہ خریداری ان کے لیے ایک بڑا اہم کام تھا جن میں بچوں کے لیے گرمیوں کے ان سلے کپڑے اور عید کے لیے ریڈی میڈ کپڑے خریدنے تھے۔ اور کچن کا کچھ سامان خریدنے کے ساتھ ساتھ ماہانہ سودا سلف خریدنا بھی شامل تھا۔ فضہ کہنے لگی کہ “کپڑوں کی خریداری کے بعد میں نے گھر میں بیٹیوں کے کپڑے خود سلائی کرنے ہیں تاکہ موسم گرما کے کپڑے بروقت تیار ہو سکیں۔ اور بیٹوں کے کپڑے درزی سے سلائی کروانے کے لیے دینے تھے۔اب یہ کام بھی لیٹ ہو جائے گا۔”
فضہ کے شوہر کہنے لگے کہ “اب یہ تقدیر کا فیصلہ ہے کہ شاپنگ کا کام آج کی تاریخ میں ہوتا ممکن نہیں دکھائی دے رہا۔”
فضہ کہنے لگی کہ “بچے اپنی مرضی سے عید کے ریڈی میڈ کپڑے خریدنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ ہمارے ساتھ بازار آنے کے لیے مصر تھے۔ شاید آج بازار بند ہونے میں یہ مصلحت ہو کہ آئندہ بچے خود ساتھ آکر اپنی پسند کی چیزیں خرید سکیں۔”
فضہ کو بازار جانا اور شاپنگ کرنا انتہائی مشکل بلکہ بڑی حد تک ناگوار گزرتا تھا۔ ابھی تک اللہ کا فضل و کرم رہا تھا کہ اسے اس مشکل مرحلے سے کم گزرنا پڑا تھا۔ کیونکہ اسکے شوہر بھی یہی سوچ رکھتے تھے۔ لیکن جب کبھی کبھی اس کے شوہر اکیلے بچوں کی شاپنگ کی ذمہ داری نبھانے کی وجہ سے تنگی محسوس کرتے تو وہ دھیمے لہجے میں انہی کے خیالات ان کے سامنے بیان کر دیتی تھی کہ “اللہ تعالیٰ کے نزدیک بازار روئے زمین پر سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں ہیں۔ جہاں مرد و عورت اکٹھے خریداری کررہے ہوتے ہیں اورکثرت ہجوم کی وجہ سے کھوے سے کھوا چھل رہا ہوتا ہے۔ اللہ کی نافرمانی کے بہت سے کام ان بازاروں میں سر انجام پا رہے ہوتے ہیں۔ لہذا میرا بازار نہ جانا زیادہ بہتر ہے۔” اور پھر اس کے شوہر مان جایا کرتے تھے۔

انہی خیالات نے اسے بازار جانے سے دور رکھا ہوا تھا۔ شاپنگ کے معاملات میں اسے میاں صاحب کی بھرپور معاونت حاصل رہتی تھی۔ اب اسے بہت مشکل لگ رہا تھا کہ وہ دوبارہ بازار ائے۔ وہ ان سے کہنے لگی کہ “اب جب بازار کھلیں تو آپ بچوں کو بازار لے جائیں تاکہ سر سے یہ بوجھ تو اترے۔ عموماً آپ خود ہی بچوں کو ساتھ لے کر ان کی مرضی کی شاپنگ کروا دیتے ہیں۔ آپ کی چوائس بھی ماشاءاللہ بہت اچھی ہے۔ خواہ ان سلے کپڑے خریدنے ہوں یا ریڈی میڈ کپڑوں کی خریداری کرنی ہو، جوتوں کی خریداری ہو یا بچیوں نے اپنی من پسند جیولری خریدنی ہو۔ آپ کی موجودگی میں بچے زیادہ تنگ کیے بغیر کم وقت میں اچھی شاپنگ کر لیتے ہیں۔ ”
دوسری بات جس کی وجہ سے اس کے دل کو پریشانی ہوئی تھی، وہ بازار کی بے رونقی تھی۔ “یہ بازار پہلے کتنی چہل پہل اور رونق والا ہوتا تھا! یہاں رات کے دس گیارہ بجے بھی دکانیں کھلی ہوتی تھیں اور ہر طرف روشنی ہونے کی وجہ سے رات میں بھی دن کا سماں لگتا تھا۔ اب ہر طرف کیسے بے رونقی سی چھائی ہوئی ہے! بازار کی مخصوص رونق، لوگوں کی چہل پہل، آنا جانا، بچوں کے غباروں اور کھلونوں کی خرید وفروخت، گاہکوں کا چیزوں کی قیمتیں کم کروانے کے لیے بحث مباحثہ کرنا سب کچھ مفقود ہوچکا ہے۔” وہ شوہر کے سامنے اپنے دل کے تاثرات بیان کر رہی تھی۔

اس کے شوہر نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا کہ “بالکل! لاک ڈاؤن سے پہلے انہی سڑکوں پر لوگ اپنی سواریوں میں مختلف کاموں کے لیے سفر کرتے تھے۔ اسی بازار میں لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے کئی دفعہ ٹریفک بھی متاثر ہوتی تھی۔ ہر طرف گہما گہمی اپنے عروج پر ہوتی تھی۔ اب بازار کے علاوہ سڑکیں بھی کیسی سنسان اور ویران پڑی ہیں!”

فضہ کے دل میں خیال آیا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے جا بجا گزشتہ اقوام عالم کا تذکرہ کیا ہے جو اپنے اپنے زمانوں میں سپر پاور کی حیثیت رکھتی تھیں اور پھر ان پر آنے والے مختلف عذابوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا۔
“كَاَنْ لَمْ يَغْنَوْ فِيْهَا۔” (سورۃ الھود: 68)
“گویا کہ وہ اس میں آباد ہی نہ ہوئے تھے۔”
تو اسے اس بازار کی بھی اس وقت یہی حالت لگ رہی تھی۔ وہ دل میں توبہ و استغفار کرنے لگی۔

واپسی کے سفر میں اس کے ذہن میں یہ تاثر بہت گہرا تھا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ “یہاں بھی سڑکوں پر کتنا سناٹا چھایا ہوا ہے! مین روڈ پر کتنی جگہوں پر کوئی بندہ بشر دکھائی ہی نہیں دے رہا۔ گویا یہاں کوئی آبادی ہی نہیں ہے، گویا یہاں لوگ کبھی بسے ہی نہ تھے۔” اس کے شوہر نے تائید میں سر ہلایا اور کہنے لگے کہ “ہمارا تو وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی کام سے باہر آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن آپ لاک ڈاؤن کے دنوں میں پہلی مرتبہ گھر سے باہر نکلی ہیں تو آپ کو یہ تنہائی اور سناٹا بہت زیادہ محسوس ہورہا ہے۔ ورنہ ممکن ہے کہ وقتاً فوقتاً گھروں سے باہر نکلنے اور سفر کرنے والی خواتین ایسی کیفیات محسوس نہ کرتی ہوں۔ کئی دفعہ تو دن میں بھی سڑکوں پر اتنی ویرانی چھائی ہوتی ہے کہ دیکھ کر ڈر لگتا ہے۔ اور کئی دفعہ تو دن دیہاڑے سڑکوں پر ڈکیتی کی وارداتیں بھی ہوئی ہیں۔”
پھر کچھ مزید فاصلہ طے کرنے کے بعد راستہ میں ایک بستی کچھ آباد سی دکھائی دی اور چند لوگ بھی ادھر ادھر اپنے کام کاج میں مشغول چلتے پھرتے نظر آئے جن کو دیکھ کر فضہ کو اپنے دل میں مسرت سی جھلکتی محسوس ہوئی۔
چند کلومیٹر مزید فاصلہ طے کرنے کے بعد سڑک کے کنارے ایک وسیع قبرستان نظر آیا جو بالکل سنسان اور ویران پڑا تھا اور دور دور تک کسی قبر پر کوئی شخص دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ فضہ نے قبرستان کے باہر سے گزرتے ہوئےاسکے مکینوں کی مغفرت کے لیے مسنون دعا پڑھی۔ پھر بے ساختہ اس کی زبان پر یہ شعر آگیا۔
ع یہ شہر خموشاں ہے، یہاں باتیں نہیں کرتے
روتے ہیں یہاں، ہنس ہنس کر ملاقاتیں نہیں کرتے

فضہ کو خیال آیا کہ آج ویران بازار اور اس شہر خموشاں میں زیادہ فرق نظر نہیں آ رہا۔ اسکے ذہن میں ان کو دیکھ کر گزشتہ اقوام عالم کا انجام پھر تازہ ہوگیا کہ
“مِنْھَا قَائِمٌ وَّ حَصِیْدٌ.” (الھود:100)
ان (بستیوں) میں سے کچھ (کے کھنڈرات) قائم ہیں اور کچھ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند ہو چکی ہیں۔”
بھرے پرے شہر کی ویرانی اور پھر شہر خموشاں کی باہر سے زیارت نے اس کی سوچ کے زاویے کو تبدیل کرکے اس کے خیالات کو نئی شکل دے دی تھی۔ وہ اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ “ہمارے انفرادی و اجتماعی گناہوں کی پاداش میں ہم پر آنے والی مختلف آزمائشیں خصوصاً یہ عالمی وبا کرونا وائرس کی بیماری اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو سکتی ہے۔” اس کے شوہر کہنے لگے کہ “بالکل! اب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور توبہ و استغفار کرکے اللہ تعالیٰ کو منانے سے ہماری مشکلات حل ہو سکتی ہیں۔”
بڑی حسرت سے اس کے دل سے دعائیں نکلیں کہ “یا اللہ! ہمارے ملک وملت کی حفاظت فرما اور ہمیں اس وبائی آفت سے محفوظ رکھنا۔ ہمیں اپنی طرف پلٹنے اور توبہ و استغفار کرنے والا بنادیں۔ اور اپنی پسند کے اعمال کرنے اور اپنے مقرب بندوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما دیں۔” آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں