راشد منہاس شہید

وہ اقبال کا شاہین تھا جو ملک کی آن بان پر قربان ہو گیا اور اس کا جذبہ حب الوطنی نوجوان نسل کے لیے مثال بن گیا۔ نو عمری میں نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں منہاس قبیلے کے ایک مسلم راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ راشد منہاس نے ابتدائی بچپن کراچی میں گزرا۔ مگر راشد منہاس کا کنبہ راولپنڈی شفٹ ہوگیا۔ راشد منہاس نے ابتدائی تعلیم سینٹ میری کے کیمبرج اسکول راولپنڈی سے حاصل کی۔ بعد میں راشد منہاس کا کنبہ واپس کراچی شفٹ ہوگیا۔ راشد منہاس کو ہوابازی کی تاریخ اور ٹیکنالوجی سے بچپن سے شوق تھا۔ وہ مختلف ماڈل کے ہوائی جہاز اور جیٹ طیارے جمع کرتے تھے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کراچی میں بھی تعلیم حاصل کی۔

جہاں سے انہوں نے سینیر کیمبرج کا امتحان نمایاں پوزیشن لے کر پاس کیا۔ کامیابی کے بعد انہوں نے پاکستان ایئرفورس میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ کیا۔ (جاری ہے)



راشد منہاس کا شوق رنگ لایا اور ان کو پاک فضائیہ میں سلیکٹ ہونے کے بعد ٹریننگ کیلئے کوہاٹ اور کچھ عرصہ بعد رسالپور بھیج دیا گیا۔ رسالپور میں راشد منہاس نے پاکستان ایئرفورس اکیڈمی سے فلائٹ کیڈٹ کی تربیت حاصل کی۔ ایئر فورس اکیڈمی کے طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے جون 1970 میں پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔

14 سالہ راشد منہاس کے لیے وہ لمحات باعث فخر تھے جب 6 ستمبر 1965 کے معرکوں میں پاک فضائیہ نے اپنی روايت کو برقرار رکھتے ہوئے شجاعت اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا۔ 1965 کی جنگ نے تاریخ تو رقم کی مگر پاک فضائیہ کو ايک عظیم، پرجوش پائلٹ آفیسر بھی دے گئی۔

دراصل جنگ ستمبر کے کا رناموں نے 14سالہ راشد منہاس کی زندگی کا مقصد متعین کیا راشد منہاس نے ٹھان لی کہ ایک دن وہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح فضاؤں کے شہسوار بن کر دشمن کو سبق سکھائیں گے۔

اسی شوق اور جذبہ حب الوطنی کا اعجاز تھا کہ راشد منہاس نے ناتجربے کاری اور کم عمری کے باوجود اپنے غدار انسٹرکٹر کے سازشی عزائم کو ناکام بنایا اور 20 اگست 1971 کوغدار کے ہاتھوں بے بس ہونے کے بجائے وطن کی خاک پہ جامِ شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔

20اگست 1971 کو ٹرینر کی پرواز میں فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ مطیع نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے نوجوان پائلٹ راشد منہاس پر ضرب لگائی اور طیارے کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیا-

طیارہ بھارت کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ اسی اثناء میں راشد منہاس شہید کو ہوش آگیا اور راشد منہاس اور غدار مطیع الرحمان کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی اور شہید پائلٹ نے مطیع الرحمان کو اس کے ناپاک و مذموم مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا اور طیارہ بھارت کی سرحد سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر زمین بوس ہوا ۔ (جاری ہے)



راشد منہاس کا جذبہ ایمانی اور آتش حب الوطنی تھی جس نے راشد منہاس کو وہ بے مثال جرات بخشی جس کے تحت انہوں نے ایک غدار انسٹرکٹر کے ناپاک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے 20 اگست 1971 کو جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے اس لازوال کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دیا گیا۔ راشد منہاس کی اس بہادری نے اسے نوجوان پاکستانیوں کے لئے بچپن کا ہیرو بنا دیا اور یہی وجہ بن گئی کہ چھوٹے بچے بھی مسلح افواج خصوصا پی اے ایف میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

قوم وطن کے اس جیالے سپوت کو سلام اور سلوٹ پیش کرتی ہے۔ جب تک اس ملک میں راشد منہاس شہید جیسے بہادر اور نڈر نوجوان موجود ہیں، دشمن اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے۔

لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

اپنا تبصرہ بھیجیں