قربانی یا دکھاوا؟ ۔۔۔ از عظمی عثمان

گلستان جوہر کی سڑک پر اسٹریٹ لائٹس آن تھیں، گروپ بنا کر اپنی گاڑیوں کے پاس کھڑے وہ تینوں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ براون ٹی شرٹ، نیلی آنکھیں، اور جیل سے مہکتے اسٹائلش بال، مسکراتے ہوئے اپنے دوست سے باتیں کرتا۔ یہ ذیشان تھا۔
“جانور لینے کب جاو گے ذیشی؟” اسفند نے دریافت کیا۔
“ابھی تو چاند بھی نظر نہیں آیا نا؟” اس نے بھنویں اکھٹی کیں۔

“ہاں مگر تھوڑے دن پہلے لانا چاہیئے “خدمت” بھی تو کرنی چاہیئے جانور کی، یہ کیا دو دن پہلے لائے اور ذبح کردیا؟” شہریار نے ناک سکوڑی۔

“اچھا پھر سنڈے کو صبح کے وقت چلیں گے منڈی، میری گاڑی میں، واپسی میں تم جانور کے ساتھ ادھر سے بڑی گاڑی کروا لینا، ہم اسی میں واپس آجائیں گے”۔ ذیشان نے پروگرام بنالیا۔
“ارے نہیں” اسفند نے ٹوکا۔
“ایسے گاڑیوں میں کیا مزہ آئے گا؟ ہم کھلی شہہ زور کروا کر چلیں گے، اور دن کے ٹائم نہیں رات کے وقت، بہت رونق ہوتی ہے”۔ اسفند نے آنکھ ماری۔ “چلو ٹھیک ہے” اپنے موبائل میں دیکھتے ہوئے ذیشان نے سر ہلایا۔

اتوار کی رات وہ تینوں پھر سے جمع ہوگئے تھے۔ ذیشان گاڑی دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ “اس میں بیٹھیں گے کہاں؟ ” اندر گھاس اور مٹی بچھی ہوئی تھی، جانور کیلئے اور اوپر لوہے کا جنگلہ بنا ہوا تھا۔
“اس “میں” بیٹھنا نہیں ہوتا، اس “پر” بیٹھنا ہوتا ہے۔ گدھے” شہری نے ذیشان کی گردن دبائی پھر وہ تینوں جوں توں کر کے اوپر چڑھ گئے تھے۔ ذیشان جنگلے کو کافی کس کر پکڑ کر بیٹھا تھا، تھوڑا ڈرا ہوا تھا”۔

“اس سے مہذب سواری نہیں ملی تھی؟ انسانوں کی طرح کار میں چلے جاتے کیا برائی تھی؟” ذیشان بگڑا۔ “بندر کیا جانے ادرک کا سواد، چپ کر کے بیٹھو، بلکہ جنگلے سے چپکو” شہری کہہ کر سیلفی لینے لگا۔ “گوئنگ ٹو منڈی” لکھ کر فیسبک پر ڈال دی۔

منڈی پہنچ کر انہوں نے کیمپس کا رخ کیا، منہ پر ماسک لگا کر وہ ادھر ادھر ریٹ پوچھتے پھر رہے تھے۔ کوئی جانور پسند ہی نہیں آرہا تھا اگر کوئی پسند آتا تو بیس پچیس لاکھ سے کم کا نہیں تھا۔ ذیشان کی رینج پانچ چھ لاکھ تک تھی۔ اسے اعلی نسل کا بھاری اور خوبصورت جانور درکار تھا، تاکہ ہر کوئی دیکھتا ہی رہ جائے اور قیمت پوچھے بنا رہ نا سکے۔ وہ کیمپوں سے باہر آکر بھی کافی خوار ہوئے حالت ابتر ہوگئی مگر مطلوبہ جانور مل کر ہی نہیں دے رہا تھا ہر کوئی بیل دیکھ کر ذیشی کا دل اس پر آجاتا اور وہ ریٹ کروانے لگتا، مگر کچھ ہی دیر میں وہ مایوس ہوجاتا۔ بیوپاریوں کے نخرے آسمان کو چھو رہے تھے۔

“بھائی لینا ہے تو لو، نہیں تو کہیں اور دیکھ لو”۔ ایک بیوپاری نے ان تینوں کو جھاڑ پلا دی، اور رسی اسفند کے ہاتھ سے لے لی جو بیل کو لے کر سیر کر رہا تھا اسکا منہ بن گیا۔ ذیشان صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔ “چھوڑ ویرے یہ اپنا جانور واپس لے جائے گا اسکو بیچنا ہی نہیں ہے”۔ اسفند نے رسی مالک کو تھماتے ہوئے طنز کیا۔

“او جاؤ جاؤ، لینا وینا ہے نہیں، شو بازی کیلئے آگیا ہے سارا جاو ادھر سے” وہ بیوپاری کافی خر دماغ تھا۔ وہ تینوں دل ہی دل میں اسے کوستے ہوئے وہاں سے نکل آئے۔ آدھی رات گزر گئی تھی۔ “یار چلو گھر کل دوبارہ آجائیں گے”۔ شہریار شاید گھوم پھر کر تھک چکا تھا اسلیئے جمائی لیتے ہوئے بولا۔

“نو نو، اب کل کا دن میں پھر سے خراب نہیں کر سکتا، ابھی ہی لےکر چلیں گے”۔ ذیشان نے نفی میں سر ہلایا۔ کچھ دیر خواری کے بعد بالآخر اسے بیل پسند آ ہی گیا تھا ذیشی کے قد کے برابر اور خوبصورت سلامی والا وہ سفید بیل سات لاکھ کا تھا۔
“سات سے نا ایک پیسہ ادھر نا ادھر، بھائی ایک ریٹ ہے فائنل” وہ بھاو کروانے لگا تو بیوپاری نے ہری جھنڈی دکھا دی۔

“لے بھائی یہ تھوڑے میرے پاس پڑے ہیں یہ بھی ملا اور کچھ اسفند سے لے، مگر یہ خرید اور چل گھر”۔ شہری کو واقعی نیند آئی تھی۔
“پھر مل ملا کر انہوں نے وہ بیل خرید ہی لیا تھا۔ “چلو رسی دو بھائی کو” بیوپاری نے نوٹ گنتے ہوئے اپنے لڑکے کو اشارہ دیا۔ ذیشان نے سکون کا سانس لیا۔
امی کی کالز آرہی تھیں کہ وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں آیا۔ “بس امی لے لیا ہے، آرہے ہیں”۔ بیل کو دیکھتے ہوئے ذیشان نے مسکرا کر کہا۔
پھر گاڑی میں بیل چڑھوا کر وہ تینوں سکھ کا سانس لیتے ہوئے دوبارہ اوپر چڑھ گئے اور گھر کی راہ لی.

صبح اسکی آنکھ بارہ بجے کھلی تھی وہ کھڑکی سے گلی میں جھانکنے لگا۔ اورنج پلاسٹک سے بیل کیلئے سایہ کا اہتمام کیا گیا تھا اور نرم مٹی ڈال کر جگہ کو بیل کیلئے آرام دہ بنایا گیا تھا یقینا یہ کام احرام کا تھا (ذیشان کے چھوٹے بھائی)۔ وہ ناشتہ کر کے باہر آیا تو لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔

“بھائی راتوں رات لے آئے لگتا ہے، رات کو تو نہیں تھا؟”۔ پڑوسی انکل نے بیل کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔ “جی انکل رات کو ہی لائے ہیں”۔ ذیشان مسکرایا۔

“بھئی بہت ہی خوبصورت ہے کتنے کا لیا؟”۔ روایتی سوال کا آغاز۔ “سات لاکھ کا انکل”۔ بتاتے ہوئے ذیشان کے لہجے میں فخر اتر آیا۔ “بھئی سہی مل گیا دیکھنے میں تو دس بارہ سے کم کا نہیں لگ رہا”۔

اور سارا دن یہی ہوتا رہا۔ جیسے ہی شام ہوئی وہ رسی پکڑ کر ٹہلانے کیلئے نکل پڑا۔ جہاں سے گزرتا لوگ رک رک کر ریٹ پوچھتے، تعریف کرتے ، ذیشان کو محنت اور پیسے وصول ہوتے محسوس ہورہے تھے۔

اس نے کال پر اپنی منگیتر کو بھی بتایا تھا تب سے اسکی فرمائش تھی کہ وہ بیل لے کر انکی گلی میں آئے۔ ذیشان نے حامی بھر لی تھی۔ شام ہوتے ہی وہ رسی لےکر اسکی گلی میں لے آیا وہ کھڑکی سے دیکھتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہی تھی۔ گلی میں بیل کھڑا ہوتا تو احرام اسکی ویڈیوز بناتا رہتا اسے کھلاتا پلاتا اور پیار کرتا۔ شوق نرالے ہیں مگر یہ عام ہیں۔ عید قربان میں پانچ روز رہتے تھے ۔ بیل کچھ سست سست لگ رہا تھا۔ اس نے بابا کو بتایا تو وہ خاموش ہوگئے۔

“یہ مر جائے گا بیٹا”۔ انہوں نے ذیشان کو دیکھ کر کہا۔ “اللہ نا کرے بابا” ذیشان تو ذیشان احرام بھی دہل گیا۔
“بیٹا یہ بیمار ہورہا ہے، اسے ذبح کردو ابھی ہی یہ عید قربان تک نہیں رہے گا”۔ بابا کہ دوراندیشی اس وقت بہت بری لگ رہی تھی۔ “میں ڈاکٹر کو دکھاؤں گا شام کو” وہ اٹھ کر چلا گیا۔

پھر جیسے ہی شام ہوئی وہ بیل کو ڈاکٹر کو دکھا آیا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اسے کچھ دن آرام کرنے دیا جائے بیل بھاری ہے اسلیئے زیادہ چلانے کی وجہ سے اسکے پاوں میں درد رہنے لگا ہے۔ شام کے وقت وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے کہ بابا جائے نماز اٹھا کر وہیں آگئے۔

اس سے پہلے کہ کوئی استفسار کرتا انہوں نے وہاں قبلہ رو ہوکر جائے نماز بچھائی اور نماز پڑھی
نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے موبائل نکال کر سیلفی لی، اور پھر ویڈیو بنانے لگے۔ سب گھر والے حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ آج بابا کو ہوا کیا ہے۔ نماز پڑھ کر وہ انکے پاس بیٹھ گئے۔

“بیٹا میں نے عصر کی نماز پڑھ لی”۔ انہوں نے ذیشان کو کہا۔ اسکے بعد اٹھے اور فردا فردا سب گھروالوں کو مخاطب کر کے یہی کہا۔ وہ سب حیرت میں تھے کہ یہ ماجرا کیاہے۔
“یہ جو نماز پڑھی اس میں میں چار بار اللہ کے سامنے کھڑا ہوا آٹھ سجدے کیئے اتنی میری جسم کی مشقت ہوئی”۔ وہ کہنے لگے۔ “میں نے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھی، الم نشرح، الفلق، الناس، اور باقی کئی سورتیں، اور آپکو پتا ہے قرآن کے ایک حروف سے دس نیکیاں ملتی ہیں، تو یوں میں نے کئی نیکیاں کما لی ہیں، ذرا یہ اسٹیٹس لگا دو” انہوں نے موبائل آگے بڑھایا۔ مگر ذیشان نے تھاما نہیں ۔
وہ کیسے ایسا اسٹیٹس لگاتا؟ لوگ دیکھتے تو ہنستے کہ انہیں کیا ہوگیا ہے؟.. “کیا ہوا لگاؤ”۔ وہ گرجے۔
“سب کیا سوچیں گے بابا؟”۔ ذیشان نے ہنس کر ماحول پر چھائی کثافت دور کرنی چاہی۔ “سب کیا سوچیں گے؟” اور رب ایسی نیکی قبول کرلے گا؟”۔ وہ دھاڑے۔

“ہوا کیا ہے بابا؟”۔ ذیشان احرام کی طرف دیکھنے لگا کہیں اس نے تو “نماز اسٹیٹس” نہیں لگا لیا تھا۔ “بتاتا ہوں پہلے میرے کچھ سوالوں کے جواب دو”۔
“مجھے یہ بتاؤ، کہ حج کیا ہے؟”۔ وہ کسوٹی کھیلنے لگے۔
“حج عبادت ہے بابا”۔ وہ حیران تھا۔ “بیٹا یہ میں جانتا ہوں عبادت ہے، مگر کیا حج فرض ہے؟”۔
“جی ہر صاحب استطاعت پر” ذیشان صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ “اور قربانی کیا ہے؟” اگلا سوال۔
“ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے”۔ “نماز کیا ہے؟” “فرض!

“بلکل، جیسے حج قابل احترام اور مقدس فریضہ ہے، ویسے ہی قربانی بھی مقدس فریضہ ہے، پھر یہ قربانی کے ساتھ اتنی ناانصافی اور ریاکاری کیوں؟ ” انکی بھنویں اکھٹی تھیں سر پر سفید ٹوپی تھی۔ “ہم نے کیا کیا ہے؟” وہ متعجب تھا۔

“آپ نے نہیں ہم سب نے”۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔ “ہم سب نے قربانی کو تفریح بنا لیا ہے، ایک فیسٹیول”۔ وہ مغموم نظر آرہے تھے۔

“دکھاوے پر سبقت لے جانے کیلئے مہنگے سے مہنگا جانور، اور مہنگے سے مہنگی آرائش، مگر ذرا یہ تو سوچیں، جس کو دے رہے ہیں وہ قبول بھی کر رہا ہے یا نہیں؟”۔

“منڈیوں میں فل آواز میں گانے شور شرابا ہنگامہ، پورا مہینہ فضول منڈیوں میں آنا جانا، ہر ایک سے قیمت معلوم کرنا، بیٹا مجھے بتاؤ اس میں سنت ابراہیمی کہاں ہے؟”۔ سوال نہیں تھا احتساب تھا۔ “منڈی جاتے وقت نیت کی تھی آپ نے؟ کہ “میں حضرت ابراہیم علیہ سلام کی پیروی کرنے جا رہا ہوں؟”۔ وہ لاجواب ہوا تھا۔

“آپ کے ذہن میں کہیں بھی وہ گفتگو تھی کہ ہم قربانی شکرانے کی کر رہے ہیں؟ حضرت اسماعیل گر قربان ہوتے تو بیٹا آج آپ کو بھی مجھے قربان کرنا پڑتا، اتنی عظیم عبادت ہے یہ”۔ وہ خاموش ہوئے۔

“اللہ نے انہیں آزمایا تھا، انہوں نے اپنا سب سے پیارا اکلوتا، اور لاڈلا بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کرنے کیلئے لٹا دیا تھا، جو انہیں بہت سالوں کے بعد ملا تھا کیا آپ کے ذہن میں حضرت اسماعیل کے وہ الفاظ تھے؟” کہ بابا اگر اللہ چاہتا ہے تو میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں آپ اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیں بابا، کہیں آپ ڈگمگا نا جائیں۔۔۔ انکی آنکھیں بھیگ گئیں۔

“آپ میرے بیٹے ہو نا کہہ سکتے ہو ایسے؟”۔ وہ سوال کر رہے تھے اور ذیشان کا سر جھکتا جا رہا تھا۔ “ہمارے لیئے آسان کردیا گیا سب کچھ، مگر ہم نے کیا کیا؟ تفریح بنا لیا؟ مقصد ابراہیمی کو فوت کردیا، ہم نے دکھاوا کرنا مناسب سمجھا”۔ “ہم دس دس بیس بیس دن پہلے خدمت کے نام پر جانور لے آتے ہیں اور انہیں اذیت دیتے ہیں”۔ وہ نفی میں سر ہلا رہے تھے۔

“یہ جانوروں کو ٹہلانے کے بہانے گھمانا، بھاگ جائیں تواذیت لگ جائے تو اذیت، کیا یہ سب جائز ہے؟”۔
“ہم فیسبک انسٹا، واٹساپ ہر جگہ تصاویر سے بھر دیتے ہیں، کیا یہ ٹھیک ہے؟ اگر ہاں تو بیٹا یہ میری نماز کی نیکیوں کا بھی اسٹیٹس لگا دیں”۔ وہ ذیشان کو ہی دیکھ رہے تھے۔

“آپکو پتا ہے؟ اللہ تعالی سورہ نساء میں فرماتا ہے: اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں، اور ایمان نہیں لاتے، اللہ اور نا قیامت پر، جن کا مصاحب شیطان ہوا اور (شیطان) کتنا برا مصاحب ہے”۔ (سورہ نساء، آیت نمبر 120/12)

“بابا سب ہی ایسے کرتے ہیں ہم تھوڑی”۔ احرام بیچ میں بولا۔ “تو بیٹا یہ لیں نا، لگائیں ہر چیز کا اسٹیٹس دکھاوا کریں نماز کا، قرآن کا، شاید یہ بھی رواج بن جائے”۔ انہوں نے موبائل بڑھایا۔

“کتنے ہی مہنگے جانور مر جاتے ہیں جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ اللہ کو ایسی نمائش کی ضرورت نہیں ہوتی، ہماری قربانی کے جانور کا ہم دکھاوا ہی اتنا کرلیتے ہیں پیچھے کچھ بچتا ہی نہیں ہے”۔ “قربانی تو ایسی ہو،کہ ایک بندہ دو دن پہلے جائے خاموشی سے اللہ کی راہ میں قربان کیلئے خوبصورت جانور کا انتخاب کرے، اور دو دن بغیر گھمائے پھرائے، اسکی قربانی کردی جائے، مقصد ابراہیمی زندہ رہے، اللہ کو بھی پسند آئے”۔ “ہم تو قربانی سے پہلے خوب نمائش کرتے ہیں بعد میں ہمیں گوشت باربی کیو، اور دعوتوں کی پڑی ہوتی ہے، اس میں کہاں ہے مقصد ابراہیمی؟”
“ہمیں تو لذیذ کھانوں کی صورت یہیں اجر مل جاتا ہے”۔ ذیشان کی گردن جھکی ہوئی تھی۔

“یہ جانور تم لوگ رکھو دکھاوے کیلئے، میں قربانی کیلئے بکرا لے آؤں گا”۔ وہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ “آئم سوری بابا”۔ ذیشان افسردہ تھا۔

“بیٹا آپکی غلطی نہیں ہے ہماری تربیت کی کمی تھی”۔ انہوں نے آنکھوں کے کنارے پونچھے۔

“احرام بیل کو باہر سے کھولو اور لان میں باندھ دو، اب عید قربان کے بعد اسکا گوشت ہی تقسیم ہونے جائے گا، جتنی اذیت دی ہے، اسکی ہم توبہ کریں گے، اللہ غفور و رحیم ہے، اسکی سہی معنوں میں خدمت کریں گے، اتنی کہ ہمیں اس سے انس ہوجائے اور جب اللہ کی راہ میں ہم اپنا پیارا بیل دیں گے تو امید ہے وہ راضی ہوجائے گا”۔ ذیشان نے ندامت سے جھکے سر کے ساتھ بابا کو گلے لگا لیا۔

اسکا موبائل بج رہا تھا۔ اسفند کی کال تھی۔ “او یار بیل لے کر آجا ہم سب مل کر گراونڈ میں چلتے ہیں، ریس کروائیں گے آجا”۔ وہ جوش سے بول رہا تھا۔

“آئم سوری یار، مجھے قربانی کرنی ہے میرے جانور کی، میراتھن نہیں جتوانی”۔ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔ ایک عزم تھا جو اب بھولنا نہیں تھا۔ “یااللہ ہماری قبول کریں”۔ پہلی بار اسکے منہ سے نکلا تھا۔
ندامت کے آنسوؤں نے دامن بھگو کر اللہ کے ہاں اپنا آپ منوا لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں