کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر

“امی جان! بیت اللہ میں آخر ایسی کونسی کشش ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان بار بار وہاں جانے کی تڑپ رکھتے ہیں؟” تیمور نے سوال پوچھا
اسے ابھی فریضۂ حج کی ادائیگی کا موقع نہیں ملا تھا، ابھی کعبۃ اللہ کی زیارت کا شرف نصیب نہیں ہوا تھا۔ البتہ اس نے اپنی والدہ اور دیگر کئی لوگوں کی کعبہ کے لیے تڑپ دیکھی تھی، اور انہیں دعائیں مانگتے دیکھا تھا۔
آج 8 ذی الحجہ کا دن تھا۔ امی جان نے کاموں سے فراغت کے بعد ٹی وی پر حج بیت اللہ کا چینل لگالیا اور مناسک حج کی ادائیگی کے خوبصورت اور دلکش مناظر دیکھنے لگیں۔ تلبیہ کا خوبصورت ترانہ ان کے دلوں پر اثر انداز ہورہا تھا۔ امی جان کو چند سال قبل کیے گئے حج کی یادیں قدم قدم پر بے قرار کر رہی تھیں۔ بچے بھی ان کے ساتھ پوری طرح مگن تھے جب تیمور نے یہ سوال پوچھا۔
“حج بیت اللہ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے اور یہ ہر صاحب استطاعت عاقل، بالغ، مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔” امی جان نے جواب دیا۔
“کیا عمرہ کرنا بھی فرض ہے؟” ناصر نے شوق سے پوچھا۔
“نہیں۔ عمرہ کرنا فرض نہیں بلکہ حج کرنا فرض ہے اور حج ارکان اسلام میں سے پانچواں رکن ہے، عمرہ نہیں۔ اس لیے کہ حج میں عمرہ بھی شامل ہوتا ہے اور سفر حج میں عموماً دو تین عمرے کرنے کا آسانی سے موقع مل جاتا ہے۔” ابو جان نے جواب دیا جو ابھی ابھی ان کی مجلس میں شامل ہوئے تھے۔
“عمرہ کرنے کے لیے لوگ سارا سال کیوں جاتے رہتے ہیں؟” منصور نے بھی سوال کیا۔
“عمرہ پورے سال میں کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ حج صرف 8 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ تک (6 دنوں میں) کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے حج کے لیے تو لوگ مخصوص مہینوں میں جاتے ہیں جبکہ عمرہ ادا کرنے کے لیے سارا سال لوگوں کی روانگی رہتی ہے۔” امی جان نے بتایا۔
“زیادہ لوگ عمرہ کرنے کے لیے جاتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو تین چار دفعہ جاتے ہیں لیکن حج کے لیے بہت کم لوگ جاتے ہیں۔” منصور نے سوال کیا۔
“ہر عاقل و بالغ مسلمان پر زندگی میں صرف ایک دفعہ حج فرض ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے توفیق دے، وہ حسبِ استطاعت ایک دفعہ عمرہ یا حج کرے یا بار بار ادا کرتا رہے، یہ اس کے لیے نفلی ہوگا۔ جو لوگ دو تین دفعہ عمرہ کرتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے تو ان کو حج کرنے کے لیے توجہ کرنی چاہیے۔ بار بار عمرہ کی ادائیگی سے حج کی فرضیت ختم نہیں ہو جاتی۔ پھر آج زندگی اور صحت ہے، ممکن ہے کل حج کے لیے یہ دونوں یا کوئی ایک نعمت نہ ہوں۔” امی جان نے واضح کیا۔
“آپ اور ابو جان دونوں نے حج کیا ہوا ہے لیکن پھر بھی آپ کے دل میں بیت اللہ جانے کی تڑپ رہتی ہے۔” تیمور نے دلچسپی سے پوچھا۔
“خانہ کعبہ مسلمانوں کے “دل کا سرور” اور “آنکھوں کی ٹھنڈک” کا باعث ہے۔ اس میں اللہ تعالی نے وہ جاہ و جلال، جمال و کمال، رعب و ہیبت، سکون و اطمینان اور ٹھنڈک رکھی ہے کہ اگر انسان اس سادہ ترین مربع عمارت کی طرف نگاہیں جما کر دیکھتا رہے تو وہ اس پر اپنی نظر زیادہ دیر تک مرکوز نہیں رکھ پاتا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو جاتی ہیں۔ اس کا دل اللہ جل جلالہ کی محبت سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔” ابو جان محبت سے ایسے بول رہے تھے جیسے خانہ کعبہ ان کی نگاہوں کے سامنے ہو۔
“اس کے علاوہ خانہ کعبہ جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے عین قلب یعنی سنٹر میں واقع ہے۔ یہ دنیا کے لیے جیتے جاگتے متحرک دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان اسی کے گرد سات چکر لگا کرطواف کرتے ہیں۔ طواف ایسی عبادت ہے جو پوری دنیا میں خانہ کعبہ کے علاوہ کہیں اور ادا نہیں کی جا سکتی۔ پوری دنیا اس کے گردا گرد گھومتی ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان اس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔” امی جان نے کیف ومستی کی کیفیت میں ڈوب کر جواب دیا۔
کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
باقی نہ رہا یہ ہوش مجھے، کیا مانگ لیا، کیا بھول گیا

“مزید یہ کہ کعبہ کی موجودگی زندگی کی علامت ہے۔ جب کعبہ کو ڈھا دیا جائے گا تو قیامت آجائے گی۔ اسے اللہ نے لوگوں کے قیام کا باعث بنایا ہے۔” ابو جان نے مزید بتایا۔
“یوم عرفہ کونسا دن ہوتا ہے اور یہ کیوں اہم ہے ابو جان؟” ناصر نے پوچھا۔
“9 ذی الحجہ کو یومِ عرفہ کہتے ہیں۔ اس دن حاجی میدان عرفات میں “وقوف عرفہ” کرتے ہیں جو حج کا اہم ترین رکن ہے۔ جس نے “وقوف عرفہ” کرلیا اس کا حج ادا ہو گیا اور جو “وقوف عرفہ” نہ کر سکا، اس کا حج باطل ہے یعنی اس کا حج ہوا ہی نہیں ہے۔”
“حاجیوں کو تو یومِ عرفہ کا روزہ رکھنے کا بہت زیادہ ثواب ملتا ہوگا؟” منصور نے شوق سے پوچھا۔
“نہیں۔ حاجیوں کےلئے یوم عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب نہیں (یعنی انہیں اجازت نہیں ہے)۔ لیکن غیر حاجیوں کے لئے “یوم عرفہ” کے روزے کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ میں آپ کے سامنے ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔”
عن أبي قتادۃ رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: (صیام یوم عرفۃ أني أحتسب علی اللّٰہ أن یکفّر السنۃ التي بعدہ والسنۃ التي قبلہ۔) (صحیح مسلم: 3853)
ترجمہ: “حضرت قتادہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزہ کےبارے میں فرمایا:
(یہ گزرے ہوۓ اورآنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔)
بچے یکسوئی سے حدیث سن رہے تھے۔ دو سال کے گناہوں کی مغفرت کا جان کر ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ پھر امی جان نے انہیں ایک اور حدیث سنائی۔
قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ۔”
(صحیح مسلم: 1348)
ترجمہ: “صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اوردن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے قریب ہوتا ہے اورپھر فرشتوں کےسامنے ان پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ “یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”)

پھر ابو جان نے ایک اور حدیث بیان کی۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( “اللہ تعالیٰ یوم عرفہ کی شام میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں پر فخرکرتے ہوئے فرشتوں سے کہتے ہیں کہ “میرے ان بندوں کودیکھو۔ میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں۔”) (مسند احمد: 7089)
ابو جان اور امی جان نے “یوم عرفہ” کے بارے میں احادیث بیان کرکے اس دن کی اہمیت کو بچوں کے دلوں میں راسخ کردیا۔
“امی جان! کل صرف آپ اور ابو جان نہیں بلکہ ہم سب بھی روزہ ضرور رکھیں گے ان شاءاللہ۔ آپ نے ہم سب کو ضرور کل سحری کے وقت اٹھا کر روزہ رکھوانا ہے۔” تیمور نے اپنی والدہ کو تاکید سے کہا۔
“ضرور ان شاءاللہ۔” امی جان نے خوشی سے کہا۔

“نبی اکرم نے 10ھ میں (632ء) اپنا پہلا اور آخری حج کیا تھا جسے “حج البلاغ” بھی کہتے ہیں۔ اس میں “یوم عرفہ” کو میدان عرفات میں اپنا شاہکار خطبہ “حجتہ الوداع” ارشاد فرمایا تھا جو انسانیت کے لیے بین الاقوامی حقوقِ انسانی کا چارٹر ہے۔ اور اتنی مکمل اور خوبصورت دستاویز ہے کہ قیامت تک کے لیے انسانیت کے لیے راہنمائی کا باعث اور مینارہ نور ہے۔اس میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں اور خصوصاً خواتین کے عزت و وقار کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے معاشرتی، معاشی، قانونی، ازدواجی، اور اخلاقی حقوق و فرائض کی طرف اشارہ کیا ہے۔” امی جان نے خطبہ حجتہ الوداع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
“یوم عرفہ کو دین اسلام کی تکمیل ہوئی تھی اور اس آيت کا نزول بھی ہوا تھا۔
(اليوم اکملت لکم دینکم۔۔۔) (المائدہ5: 3)
ترجمہ: “آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے۔۔۔”
ابو جان نے تکمیل دین کی عظیم الشان نعمت کے بارے میں بتایا۔
“عرفہ ہی کے دن اللہ تعالی نے اولاد آدم سے عھد و میثاق لیاتھا جسے “عہد الست” کہتے ہیں۔” (الاعراف7: 172 ,173)
امی جان نے عہد الست کی بھی یاددہانی کروادی۔ ابو جان نے بے ساختہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے کہ “اللہ تعالیٰ ہمیں بیت اللہ کی زیارت کے لیے منتخب فرمالے اور ہمیں یوم عرفہ کی فضیلت اور برکات سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔” آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں