فطرت کے سنگ ایک خوبصورت شام

10 اپریل 2020ء بروز جمعہ کو (لاک ڈاؤن کے مشکل مرحلے کے درمیان) میرے چھوٹے بھائی ابوبکر کی کال آئی۔ سلام دعا اور اہل خانہ کے علاوہ آس پاس کے لوگوں کا حال احوال بھی پوچھا جو ان کا عموماً پر مزاح انداز ہوتا ہے۔ پھر وہ کہنے لگےکہ “آپی! لگتا ہے کہ آپ کے ہاں فون پر بھی “لاک ڈاؤن” لگا ہوا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فون کے ذریعے ہی “کرونا وائرس” آجائے اور بندہ بیمار پڑ جائے۔ آپ تو بالکل ہی “کوارنٹائن” ہو گئی ہیں” میں ہنس پڑی اور بتایا کہ “میں مصروفیات کی وجہ سے ان دنوں میں بالکل رابطہ نہیں رکھ سکی۔” پھر انہوں نے اصل مدعا بیان کیا کہ “آج شام کو ان کی اور کراچی والی آپی دونوں کی فیملی کا ہمارے ہاں آنے کا پروگرام بن رہا ہے۔” میں نے ان کو خوش آمدید کہا۔

ابوبکر بھائی اور آپی جان کی فیملی کی آمد غیر متوقع تھی۔ ہم سب واقعی گھر میں تقریباً لاک ڈاؤن تھے، آمد و رفت بالکل بند تھی۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ لاہور سے مہمان آسکتے ہیں۔ بلکہ کراچی والے مہمان بھی آسکتے ہیں۔ آپی جان کراچی سے 22 مارچ کو لاہور چند دنوں کے لیے آئی تھیں، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی واپسی تا حال ممکن نہیں ہوپائی جس کی وجہ سے وہ کافی پریشان بھی رہیں۔ ابوبکر بھائی نے لاک ڈاؤن کے باوجود حوصلہ کرکے ہمارے ہاں آنے کا پروگرام بنالیا۔
ان کی آمد کی ہم سب کو بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ بچے تو اتنا خوش تھے کہ کہہ رہے تھے کہ” ہماری زندگی میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ماموں ابوبکر کی فیملی بغیر کسی پروگرام یا فنکشن کے، آرہی ہے۔ اور کراچی والی خالہ جان تو اڑھائی سال کے بعد آرہی ہیں۔” ابوبکر بھائی کے چاروں بچے، آپی کے چھوٹے دونوں بیٹے اور قاسم بھائی کا چھوٹا بیٹا بھی بڑی گاڑی میں ان کے ہمراہ تھے۔
شام کو مغرب سے چند منٹ قبل وہ لوگ پہنچ گئے۔ میں نے ان سے خیریت دریافت کرنے کے بعد پوچھا کہ “راستے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی مشکل تو نہیں پیش آئی؟” اس کے جواب میں مہمان بچے ہنس ہنس کر بتانے لگے کہ “راستے میں کئی جگہ ہمیں پولیس نے روکا تھا لیکن پھر وہ جانے دیتے تھے۔ ایک جگہ گاڑی کو پولیس والوں نے روکا اور ایک کانسٹیبل نے ماموں ابوبکر کو نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔ ماموں بڑی شرافت سے اترگئے۔ انہوں نے پولیس آفیسر کی وردی پر سجائے بیج پر اس کا نام پڑھا، پہلے اس کو سلام کیا، پھر اس کا نام لے کر بڑی اپنائیت سے اس کا حال احوال پوچھا۔ پہلے تو وہ حیران ہوا، پھر وہ سمجھا کہ شاید کوئی جان پہچان والا بندہ ہے۔ اس نے بھی اچھے طریقے سے اس کا جواب دیا۔ پھر وہ پوچھنے لگا کہ” آپ کہاں جا رہے ہیں؟” ماموں نے بتا دیا تو وہ مزید پوچھنے لگا کہ “اتنے بچوں کے ساتھ آپ جا رہے ہیں؟” یعنی اسے اب سفر میں بچوں کی تعداد پر اعتراض تھا۔ ماموں نے کہا کہ”بچوں کو گھر میں کیسے چھوڑ دیں؟ ان کو بھی تو ساتھ لے کر جانا پڑتا ہے بلکہ وہی تو جانے کی ضد کرتے ہیں۔” اس نے پھر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ “اتنے بچے؟” تو ماموں ہنس کر کہنے لگے کہ “ابھی تو آدھے بچے گھر میں چھوڑ کر آئے ھیں۔” پولیس آفیسر ہنس پڑا اور اس نے ان کو جانے کی اجازت دے دی۔ یاد رہے کہ یہ صرف ایک مزاحیہ بات تھی۔

مہمانوں کی آمد پر ہم سب حسبِ توفیق ان کی مہمان نوازی کرتے رہے۔ سب لوگ گھر سے کچھ فاصلے پر واقع کھیتوں، فصلوں اور نہر پر جانا چاہتے تھے۔ بچے فارم پر واقع ٹیوب ویل میں نہانے کا بہت پرجوش قسم کا ارادہ رکھتے تھے۔ لہٰذا بچوں، بڑوں سب کے اصرار پر گیارہ اپریل کو بعد نماز عصر ہم تینوں فیملیز کے لوگ کھیتوں میں گئے۔ ڈاکٹر عبید صاحب اور ابوبکر بھائی دونوں کسی سے ملاقات کے لیے علیحدہ روانہ ہو گئے۔
ہماری گاڑی چھوٹی بھابھی چلا رہی تھیں۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد سب بچوں کو سفر کی دعا پڑھائی۔ اور شام کے اذکار پڑھنے کی تاکید کی۔ ہمارے گاڑی جہاں جہاں سے گزر رہی تھی، وہاں لوگ بہت غور سے، باقاعدہ رک کر یا کھڑے ہو کر ملاحظہ کر رہے تھے کہ ایک باپردہ عورت گاڑی کی ڈرائیونگ کر رہی ہے۔ ساتھ ساتھ میرے بڑے بیٹے کی ہدایات اور تبصرے بڑے برموقع تھے۔
راستے میں گائیں، بھینسیں، بکریاں، دنبے، کتے، مرغیاں، بطخیں سب کچھ دیکھے۔ کھیتوں میں پہنچ کرآلو، پیاز، کدو، پیٹھا کدو وغیرہ کے پودے اور کھیت دیکھے۔
چھوٹے بچے بہت پرجوش تھے اور ایک دوسرے کو اونچا اونچا بول کر بتا اور دکھا رہے تھے کہ “دیکھو! پیاز کا پودا ایسا ہوتا ہے۔ دیکھو! اس میں یہ پیاز لگا ہوا ہے، آدھا پیاز زمین کے اوپر ہے اور آدھا زمین کے اندر دبا ہوا ہے۔ اور یہ بھی دیکھو! اتنے سارے کدو ایک پودے میں ایک جگہ قریب قریب لگے ہوئے ہیں۔”

اتنے میں کھیتوں کا رکھوالا کتا بھونکتا ہوا ہمارے بالکل قریب آگیا۔ لمبی زبان نکالے وہ ہانپ رہا تھا۔ ایک دو چھوٹے بچے ڈر کر رونے لگے۔ جب مالک نے اسے ڈانٹا تو وہ دبک کر واپس چلا گیا لیکن اتنی دیر میں ایک دفعہ تو سب کا خون خشک ہو گیا تھا۔
یہاں بچوں نے ٹیوب ویل میں نہانے کا لمبا چوڑا ارادہ کیا ہوا تھا بلکہ ان کے لیے کھیتوں اور فصلوں سے زیادہ دلچسپی ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کی تھی۔ لیکن ٹیوب ویل کے چلانے میں کوئی چھوٹا سا مسئلہ ہو رہا تھا جس کی وجہ سے وہ سٹارٹ نہیں ہو پا رہا تھا۔ فارم کے مالک نے مکینک کو بلایا جس نے ایک منٹ کے اندر ٹیوب ویل کی مشینری کو سیٹ کر دیا۔ لیکن اب ڈاکٹر عبید صاحب کا فون آگیا کہ انہوں نے قریبی علاقے میں کسی واقف کار کے باغ میں جانے اور وہاں پھولوں کے پودوں اور مختلف پھل دار درخت وغیرہ دکھانے کا انتظام کیا ہے۔ چناچہ ہم نے جلدی سے میزبانوں سے رخصت کی اجازت لی اور گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔
حسب سابق بھابھی ڈرائیونگ کر رہی تھیں۔ مقررہ جگہ پہنچے تو مین روڈ پر ڈاکٹر صاحب ہمارے منتظر تھے۔ وہ اور ابوبکر بھائی پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ وہ ہمیں کچھ فاصلے پر واقع باغ کے اندر لے گئے۔ جہاں خواتین اور بچیوں کی رہنمائی کے لیے باغ کے مالک کی باحجاب بیٹی بھی موجود تھی۔ ہم نے اس سے سلام دعا کی، اس نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہمیں باغ دکھانا شروع کیا۔ وہاں انواع اقسام کے مختلف پھل دار درخت تھے۔ وہ روایتی طرز کا فارم تھا لیکن خوبصورت اور صاف ستھرا تھا جہاں ٹیوب ویل بھی لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ مالک صاحب ذوق انسان ہے۔

سب سے باہر کافی بڑی کمرشل نرسری بنی ہوئی تھی جس میں چھوٹے بڑے مختلف سائز کے پودے اور پنیریاں برائے فروخت موجود تھیں۔ ان کے اوپر گرین شیٹس لگی ہوئی تھیں جنہوں نے ان پودوں پر سایہ کیا ہوا تھا۔
وہاں فارم پر کھجور کا ایک بہت بلند و بالا درخت لگا ہوا تھا، کیلوں کے چند درخت تھے اور پام کے پر بہار درخت نظروں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ کھیتوں کے درمیان پانی کے بہاؤ کے لیے کھالیاں بنی ہوئی تھیں جن کے ذریعے پورے باغ اور کھیتوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔
شہتوت کے مختلف طرح کے درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے مثلاً کالے لمبے سائز کا شہتوت، سفید لمبے توت، چھوٹے سائز کے سفید اور سیاہ توت۔ خصوصا کالے رنگ کے لمبے سائز والے شہتوت جو دیکھنے میں ہی رس (جوس) والے اور بہت اچھے لگ رہے تھے اور درخت سے توڑ کر انھیں کھانے کا مزا بھی بہت آیا۔ اس طرح کے شہتوت کا شربت بھی تیار ہوتا ہے۔باغ میں صرف شہتوت اور بیر کے درختوں پر پکے اور مزے دار پھل لگے ہوئے تھے۔ سبحان اللہ۔
بیر، لوکاٹ، آم، جامن، امرود، انار وغیرہ کے کئی درخت تھے جن پر لگے پھل ابھی کچے تھے۔ انگور کی بیلیں بھی اپنی اپنی بہار دکھا رہی تھیں۔
وہاں ہم نے زندگی میں پہلی دفعہ سیب کا درخت اور اس پر لگے کچے پھل لگے دیکھے۔ آڑو کا درخت دیکھا جس پر چھوٹے چھوٹے کچے سبز رنگ کے پھل اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ جاپانی پھل کا درخت بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جس پر کچا سبز پھل ابھی بالکل چھوٹے سائز میں لگا ہوا تھا۔ چیکو کا درخت براؤن رنگ کے درمیانے سائز کے چیکو کے پھل کے ساتھ اپنی بہار دکھا رہا تھا۔ ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ۔
میں اپنے اردگرد بکھرے ان قدرتی مناظر کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء میں کس قدر تنوع (variety) پیدا کیا ہے۔ ہر درخت کے پتے سبز رنگ کے ہوتے ہیں لیکن ان کے کتنے مختلف ڈیزائن، شیڈز اور سائز ہوتے ہیں! ہر درخت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قدرت کی صناعی کا ثبوت ہے!

میرے ذہن میں یہ خیالات بھی آرہے تھے کہ یہاں اس وقت ہم سب خوش وخرم ہیں، امن و سکون سے ہیں، کرونا بیماری کا کوئی خدشہ بھی ہمارے قریب نہیں پھٹک رہا۔ الحمدللہ، تو اللہ تعالی ہم سب کو اسی طرح اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اور اس متعدی وبا کو پوری دنیا سے جڑ سے ختم کر دے اور رمضان کی برکات اور فضیلتوں سے ہمیں پوری طرح فیضیاب ہونے کے مواقع عطا فرمائے۔آمین
بچے بار بار ٹیوب ویل میں نہانے کا اصرار کر رہے تھے لیکن قلت وقت کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
درختوں کے بعد آگے گلاب کے سرخ پھول کثیرتعداد میں خوبصورت طریقے سے لائنوں میں لگے ہوئے بڑے اچھے لگ رہے تھے۔ان سے آگے بانس کے گھنے درخت بھی لگے ہوئےتھے لیکن ہم زیادہ آگے نہیں گئے کیونکہ اب شام کا اندھیرا چھانا شروع ہو چکا تھا۔ اب وقت بہت قلیل تھا اور مغرب کی اذان کا وقت قریب تھا۔
سب لوگ بہت خوش تھے۔ بچے اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے تھے۔ فطرت کے قریب اس باغ میں ہم نے فطرت کو اپنے اصل رنگ و روپ میں بہت قریب سے دیکھا تھا۔ پرسکون طریقے سے ڈوبتا سورج اور شام کا دھیرے دھیرے پھیلتا اندھیرا بھی بہت فطری لگ رہا تھا۔ پرندوں کی جا بجا اڑتی ٹولیاں اپنے اپنے آشیانوں کی طرف واپس لوٹ رہی تھیں۔
ہمیں اتنی جلدی واپس جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ہمارا دل تو چاہ رہا تھا کہ ہم فطرت کی اس پرسکون سی فضا میں، خوبصورت پھلوں اور پھولوں کے پودوں اور درختوں کی سنگت میں کافی وقت گزاریں۔ لیکن اب ہمیں واپس جانا تھا۔
تتلی کی طرح اڑتے چلے جاتے ہیں لمحے
پھولوں کی طرح دیکھتے رہتے ہیں انہیں ہم

واپس آئے تو دیکھا کہ آپی جان، جو ہم سے آگے اگے تھیں، اب شہتوت کے درخت کے نیچے کرسی پر کھڑے ہوکر درخت سے تازہ اور رس دار شہتوت توڑ کر کھا رہیں ہیں۔ بچوں کو یہ دیکھ کر بڑا مزہ آیا۔ وہ بھی اصرار کرنے لگے۔ ہم نے جلدی جلدی تھوڑے سے شہتوت کھائے اور پھر واپسی کے راستے پر چل پڑے۔ اور واپسی کا سفر ہمیشہ مشکل لگتا ہے۔
ہم لوگوں نے گن کر اپنے بچے، بڑے تمام افراد پورے کیے۔ دونوں گاڑیوں میں بیٹھے اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ تحدیث نعمت کے طور پر بیان کر رہی ہوں کہ اس وقت ہمارے ساتھ ماشااللہ نو حافظ قرآن بچے، بڑے موجود تھے۔ سب نے سفر کی دعا پڑھی۔ راستے میں بھی بچوں نے بہت انجوائے کیا اور پھر گھر آ کر مغرب کی نماز باجماعت ادا کی۔ ہمیں اس سہانی شام کا بہت مزہ آیا اور سب نے بھرپور انداز میں اپنے اپنے طریقے سے اس وقت کو انجوائے کیا اور پھر اس پر اپنے تبصرے اور کمنٹس کیے۔ ہم بڑوں کو اپنا ایک سابقہ اسی طرح کا ٹور یاد آرہا تھا بلکہ قدم قدم پر ہم اسے بھی ساتھ ساتھ ہی یاد کر رہے تھے۔

تقریباً تین برس پہلےموسم بہار میں ابوبکر بھائی کی فیملی راجووال آئی تھی۔ میرا بھانجا عمار ضیائی بھی ان کے ہمراہ تھا، جو اس وقت دبئی سے پاکستان آیا ہوا تھا۔ تب ریاض (سعودی عرب) سے میری ماموں زاد بہن مروہ عتیق بھی لاہور میری امی جان کے گھر اپنے تحفیظ القرآن کی تکمیل کے لیے آئی ہوئی تھی۔ وہ بھی ان کے ساتھ میرے گھر ملنے کے لیے آئی تھی۔ موسم بڑا سہانا تھا۔ تب ہر طرف ہریالی اور شادابی چھائی ہوئی تھی۔ راستے میں بھی جا بجا نظر آتے سر سبز کھیت اور فصلیں لہلہاتی نگاہوں کو تراوٹ اور تازگی عطا کر رہی تھیں ، سبز گھاس زمین پر قالین کی طرح بچھی بڑی بھلی لگ رہی تھی۔ مہمان تو قدرت کی صناعی پر دل وجان سے فدا ہو رہے تھے۔ اور وقتاً فوقتاً قدرتی مناظر کی تصاویر بنا رہے تھے۔ بقول شاعر
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں، اگر برا نہ لگے

تب بھی ہم لوگ کھیتوں میں گئے تھے، بچے بڑے غالباً ٹیوب ویل میں نہائے بھی تھے۔ کھیتوں میں لگی ترو تازہ سبزیاں خود توڑی تھیں۔ بیر، شہتوت، امرود، لیموں وغیرہ توڑے تھے اور کھائے بھی تھے۔ کھیتوں سے تازہ توڑی ہوئی چھلیاں ابال کر نمک مرچ لگا کر خوب مزے سے کھائی تھیں۔ فصلوں کے درمیان احتیاط سے چلنے پھرنے اور گھومنے پھرنے کو بھی انجوائے کیا تھا۔ فارم کے قریب واقع نہر کے کنارے بھی چلتے پھرتے رہے تھے۔ بلکہ کنارے کی ڈھلوان سے نیچے اتر کر بڑی نہر کے پانی سے سلام دعا بھی کی تھی۔ یعنی ہاتھ نہر میں ڈال کر دھوئے تھے۔ وہ بھی ایک یادگار دن تھا جس کو کم وقت میں ہم نے بھرپور طریقے سے گزارا تھا۔اور ہم آج تین برس بعد بھی اس سہانے دن کو یاد کر رہے تھے۔
وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو
کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں
آج ابوبکر بھائی کی فیملی کے علاوہ پرانے لوگ یہاں موجود نہ تھے۔ اور ان کی جگہ دیگر افراد نے لے لی تھی۔ یہی قانون فطرت ہے۔
اگلے دن صبح تقریباً 10:00 بجے مہمان لاہور کے لیے روانہ ہوگئے ۔ اور وہ تقریباً 12:00 بجے بخیریت گھر پہنچ گئے۔ الحمد للہ۔
باقی رہی یہ بات کہ ابوبکر بھائی وغیرہ کو لاہور واپس جاتے ہوئے راستے میں کیا کیا مسائل درپیش ہوئے؟ وہ ایک الگ چھوٹی سی داستان ہے جس میں کئی لطیفہ نما باتیں بھی شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ راستے میں تقریباً پندرہ جگہ پولیس ناکوں سے واسطہ پڑا۔ ایک دو جگہ پولیس نے زیادہ سختی کی اور انھوں نے مہذب طریقے سے اپنا مخصوص مزاحیہ انداز اور طرز عمل اختیار کیا تو پولیس والوں نے بھی ہنس کر ان کو جانے کی اجازت دے دی۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اور ہم سب سے اپنے دین کی بھرپور خدمت لے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں