فلسفہ حج (حصہ دوم)

ہمارا تعلق ملت اسلامیہ سے ہے۔ یہ وحدت ، اتحاد ایک عظیم امت کی ممبرشپ کا پریکٹیکلی احساس کسی اور عبادت کے اندر نہیں پایا جاتا۔آپ کا لباس اتارنا اس بات کا سمبل ہے کہ آپ گناہوں کا بوجھ اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ نئے ، سفید اور کفن جیسے کپڑے پہن لینا پتہ نہیں انسان کو کہاں تک لے جاتا ہے۔ یہ اس بات کی رمز ہے کہ آپ اندر سے تبدیل ہونا چاہتے ہیں۔اور پھر کفن جیسا لباس پہن لینا اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ آخرت سامنے ہے۔ ایک دفعہ فائنل جو یوم حساب ہے اس میں بھی اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ لبیک اللہم لبیک۔
آپ کا یہ قافلہ رواں دواں ہے اس عظیم گھر کی طرف” إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ (آل عمران:96) (بے شک لوگوں کے واسطے جو سب سے پہلا گھر مقرر ہوا یہی ہے جو مکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہ نما ہے۔)

آپ ذہن میں، خیال میں یہ بات نقش کر لیں کہ اے اللہ میں تیرے در سے خالی نہیں آتا برکتیں لے کر آؤں گا۔ برکتیں دین و دنیا کی اور ایمان کی ایک کفن جیسی دو چادریں پہننا اور برکتیں دین و دنیا کی اور ایمان کی، برکتیں جان و مال اور اولاد کی، برکتیں تزکیہ نفس کی ، برکتیں نفوس کی تطہیر کی، برکتیں اصلاح نفوس اور پیوریفکیشن کی۔ بر کتیں گناہوں سے معافی کے حصول کی، دنیا و آخرت میں آسانیوں کی۔
وہاں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے وہ برکتوں کی آماجگاہ ہے۔ ہر وقت برکت و رحمت، ہر طرح کی برکتیں اور رحمتیں نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور آپ اللہ کے اس گھر کی زیارت کے لیے رب تعالیٰ کی تو فیق اور اس کے خاص فضل و رحمت سے وہاں تشریف لے جاتے ہیں۔ ذہن میں یہ احساس ہونا چاہیے اے اللہ میں برکتوں سے مالا مال ہو کر آؤں گا۔ لبا لب بھر کہ، جھولیاں اور دامن بھر کہ واپس پلٹنا چاہتا ہوں۔ آپ بیت اللہ کی طرف قدم اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اس قدم کو معمولی نہ سمجھیے گا آپ کی رہائش گاہ سے اللہ کے گھر کی طرف اٹھنے والا ہر قدم جتنے ہزار کلو میٹر کا سفر ہے ہر قدم کے بدلے میں گناہ معاف ہوتا ہے اور درجے بلند ہوتے ہیں۔

نیکیاں لکھی جاتی ہیں، کوئی عبادت ضائع نہیں جاتی۔ یہاں کی مساجد میں آنا بھی اجر کی بات ہے اور ان مساجد میں اجر کی وجہ بھی ان کی ڈائریکشن کا بیت اللہ کی طرف ہو جانا ہے۔جب یہاں آنا اجر کا باعث ہے تو سوچیں!! بیت اللہ میں جانا کس قدر اجر کا باعث ہو گا۔
ساری زندگی آپ جس طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ میری نماز نہیں جب تک بیت اللہ کی طرف رخ نہ کر لوں۔ بندہ مومن کے احساسات کیا ہوں گے جب وہ سوچتا ہو گا ساری زندگی جس قبلہ کی طرف رخ کر کے ، آج میں اس کے سامنے آ کر نماز ادا کر رہا ہوں۔۔وہاں نمازوں کی کیفیت کیا ہو گی؟

تلبیہ کے بعد احرام اور اس کے ساتھ آپ کا سفر، تلبیہ کی کثرت، بیت اللہ الحرام پہنچ جانا، وہاں پر بیت اللہ کا طواف کرنا، جب آپ طواف/ بیت اللہ کے گرد چکر یوں گھوم رہے ہوتے ہیں یہ طواف کی عبادت اتنی افضل ہے جو صرف خانہ کعبہ میں ہی ہو سکتی ہے۔اور کہیں نہیں ہو سکتی۔ نہ جانے جس بیت اللہ کی طرف قدم اٹھانے کے بدلے میں گناہ معاف، درجے بلند اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس اندر چکر کاٹنے کا ثواب کتنا ہو گا۔
جہاں ہمارا بیت اللہ ہے بالکل اس کے اپوزٹ آسمانوں پر بیت المعمور ہے جو آسمانوں میں فرشتوں کی عبادتوں سے معمور رہتا ہے۔آپ بھی اسی نوعیت کی نورانی عبادت کر رہے ہوتے ہیں۔جب آپ طواف سے فارغ ہوتے ہیں تو آپ کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے کہ اس نے اولاد اسمعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے جتنا ثواب حاصل کر لیا ہے۔ غلام آزاد کرنے کا ثواب یہ ہے کہ اس آزاد کرنے والے کو اللہ رب العزت غلام کے ہر عضو کے عوض اس کے ہر عضو کوجہنم سے آزادی نصیب فرما دیتا ہے۔

گویا بیت اللہ کے طواف سے اپنے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کروا لیتے ہیں۔ اس کے بعد جب آپ صفا مروہ کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں، طواف بیت اللہ سے فارغ ہو کر اور اس سے قبل طواف شروع کرتے وقت جب آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں اور آپ کو جناب عمر رضی اللہ عنہ کے وہ تاریخی الفاظ یاد آتے ہیں: حدثنا خلف بن هشام والمقدمي وأبو كامل وقتيبة بن سعيد كلهم عن حماد قال خلف حدثنا حماد بن زيد عن عاصم الأحول عن عبد الله بن سرجس قال رأيت الأصلع يعني عمر بن الخطاب يقبل الحجر ويقول والله إني لأقبلك وإني أعلم أنك حجر وأنك لا تضر ولا تنفع ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك ۔ صحیح مسلم: کتاب الحج
میں تجھے پتھر ہونے کی وجہ سے نہیں پوجتا کہ تو پتھر ہے اور نہ ہی یہ تیری پرستش ہےبلکہ میں تو اپنے نبی کی سنت کی وجہ سے تیرا بوسہ دیتا ہوں کہ اللہ کے پیغمبر نے تجھے بوسہ دیا۔

اسی حوالےسے تو کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ کتنا تاریخی جملہ تھا کہ بت پرستی سے نفرت بھی سمجھ میں آ جاتی ہے اور حجر اسود کو بوسہ دینے کی وجہ اور تو جیہہ بھی سمجھ آ جاتی ہے۔ کبھی حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے آپ کہ ذہن و قلب میں یہ خیال آ جائے شاید میرے ہونٹ آج اسی جگہ پہ لگے ہوں ، جہاں آج سے کئی صدیاں پہلے اللہ کے پیارے نبی نے لگائے تھے۔ بیت اللہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ کے اکثر انبیاء طواف کرتے رہے۔ آپ کو دکھایا گیا کہ میں جناب موسیٰ کو یوں کرتے ہوئے دیکھا،میں نے جناب عیسی کو یوں کرتے دیکھا، بلکہ بعض مشا عر کے بارے میں تواسلاف نے بڑی عظیم باتیں بھی ارشاد فرمائی گئیں۔امام غزالی رحمہ اللہ نے ایک اور بات لکھی ہے جب حجر اسود پر آپ ہاتھ رکھتے ہیں یا آپ بوسہ دیتے ہیں تو کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنت سے آیا ہوا پتھر ہے آپ اس کی علامت سمجھ کر کے اللہ سے کوئی وعدہ کر رہے ہوتے ہیں
نوٹ: (یہ ان کی اپنی فیلنگز ہیں حدیث نہیں ہے)
اے اللہ یہ بھی جنت سے اتارا گیا، میں بھی جنت سے اتارا گیا، میں گناہگار خاکی آدم اور یہ جنت سے آیا ہوا پتھر، جب اس کو آدم کے بچوں کے گناہوں نے سیاہ کر دیا ہے تو جو میں نے گناہ کیے ہیں۔ میرے دل کو گناہوں نے کتنا سیاہ کر دیا ہے۔ اس احساس کے ساتھ آپ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوتے ہیں۔ انسان کے احساسات نہ جانے کن بلندیوں کو چھو رہے ہوتے ہیں۔
معراج کے کس آسماں کوچھونے لگتے ہیں. اس کے بعد آپ صفا و مروہ کی سعی کریں تو اس آیت کو ضرور ذہن میں رکھیں.
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ( سورہ البقرہ: 158 )
جو دین کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔جنکی تعظیم تقوی القلوب کی نشانی ہے۔ اللہ کے بندوں کی ایک علامت ہوا کرتی ہے۔ صفا و مروہ کی نشانی میرا احساس کہتا ہے ہمارے دین کی پوری کی پوری تاریخ صفا اور مروہ میں سمٹ گئ۔ یہ وہ صفا اور مروہ جہاں اللہ کے بندے ابراہیم نے، اپنی اولاد اور بیوی بچوں کو قربان کیا۔ اور قربان کرنے کے بعد بے آب و گیاہ ویرانے میں آباد کر کے رب کی رضا کی خاطر ایک ویرانے میں اللہ کے سپرد کر کے ان کو چلے گئے۔اور اسماعیل کی ماں چکر لگاتی رہی بیٹا پیاس سے بلکتا رہا اور وہ دوڑ لگاتی رہی۔ نہ جانے کہاں کہاں خیال جاتا ہے۔اللہ آج تیرے دین کو ضرورت ہے صفا اور مروہ کے چکر لگاتے ہوئے ہم تیرے ساتھ وعدے کرتے ہیں کہ ہم بھی خاندان ابراہیم کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔ ہم بھی اپنی اولادوں کو تیرے دین کے لیے وقف کریں گے، ہم بھی تیرے بندے (ابراہیم) اور تیری بندی (حاجرہ) کی طرح تیرے دین کے لیے دوڑ لگائیں گے۔ صفا اور مروہ کی سعی صرف دوڑ نہیں بلکہ ایک خاندان کی یاد اور قربانیوں کی داستان ہے۔یہ بیٹوں کو رب کے دین کے لیے وقف کرنے کی کہانی ہے۔۔ان الصفا۔۔

یہ رسول اللہ کے اس مشن کی یاد بھی تازہ کر دیتی ہے جب رسول نے صفا کی چوٹی پہ کہیں قریب کھڑے ہو کر کہا تھا قولوا لا الہ الااللہ بس یہ کہنا اور پھر سارے دشمن ہو گئے۔ تیرہ سالہ (مکی زندگی) میں ظلم سہتے رہے، پھر آٹھ سالہ مدنی زندگی میں بیت اللہ سے اداس رہے، اتنی لمبی جدائی کے بعد مکہ مکرمہ کو فتح کیا، اسی سال جناب ابو بکر کو، اور اگلے سال خود جب اسی صفا پہاڑی پر جہاں لا الہ الااللہ کا اعلان کیا تھا وہیں چڑھ کر کہا ہو گا اے اللہ آج سے تئیس سال پہلے جب میں نے لا الہ الااللہ کا اعلان کیا تو کوئی میرا ساتھ نہیں دیتا تھا آج اسی جگہ پر کہتا ہوں: لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک لک انجز وعدہ و نصر عبدہ و ھزم الاحزاب وحدہ۔۔ سنن ابن ماجہ کتاب المناسک:3074)

اے اللہ تو نے سب کو شکست دی ہے اس میں توکل کی کیا شان ہے؟ اللہ کو سہارا بنانا، حالات سے ما یوس نہ ہونا، اپنے سفر کو جاری رکھنا، اس میں کیا عظمت، کیا شان پائی جاتی ہے، اور تئیس سالہ دور نبوت کا خلاصہ اور کیا عظمت اللہ تعالیٰ اس پہاڑی میں چھپا رکھی ہے۔

آخر میں دو تین اہم پوائنٹس کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔جب آپ حج کے دن کا آغاز کرتے ہیں تو آپ کا بیس کیمپ میدان منی ہے، وہ میدان کس لیے بیس کیمپ ہے، نا معلوم اس کے اندر بھی اللہ کیا کیا حکمتیں ہوں گی۔ اس میدان کے اندر جو مسجد ہے اللہ کے پیغمبر ارشاد فرماتے ہیں اس مسجد میں اللہ کے ستر نبیوں نے نماز پڑھی۔ اور آپ وہاں پہنچے ہیں جہاں ستر انبیاء نہ جانے کہاں کہاں سے سفر کر کے حج بیت اللہ کی نیت اور غرض سے وہاں تشریف لاتے رہے، وہاں حاضری دیتے رہے اور گزرتے رہے، وہاں نماز ادا کرتے رہے اور بالخصوص وہ میدان منی جہاں اسلامی تاریخ نے پہلی اور آخری مرتبہ دیکھا جناب ابراہیم علیہ السلام اپنے خوبصورت بچے اور عظیم بننے والے پیغمبر کے گردن پر اللہ کی رضا کے لیے چھری چلا رہے ہیں۔ جس میدان میں یہ خوبصورت واقعہ رونما ہوا اس میدان کا نام منی ہے۔ وہ آپ کا بیس کیمپ ہے، اس میں آپ کا احساس کیا ہونا چاہیے۔جناب ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی قربانی دے دی اور آپ ایک سگریٹ کی قربانی نہیں دے سکتے، اور ایک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چہرے پر نہیں لا سکتے۔ اپنی سابقہ رسومات کو قربان نہیں کر سکتے، اپنے جاہلی عقیدے کو خیر باد نہیں کہہ سکتے، میدان منی تو قربانیوں کی یادیں تازہ کرواتا ہے۔اس کے بالمقابل ساری کی ساری دین سے دور کرنے والی چیزیں یہ اپ کے نفس کے وسوسے ہیں یا شیطان کے واہمے ہیں۔اور جب آپ جمرات کو کنکریاں مار رہے ہوتے ہیں نہ جانے کون کون سی یادیں تازہ کر رہے ہوتے ہیں۔ میدان منی کے اندر عظیم الشان کام جمرات کو کنکریاں مارنا ہے۔ حتی کہ آخری ایام میں تو صرف ایک کام کے لیے ٹھہر رہے ہوتے ہیں اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے جمرات کو کنکریاں مارنے کا فلسفہ یہ بیان کیا کہ” لاقامة ذكر الله” وہ اللہ کے ذکر کو قائم کرنا ہے” اللہ کا ذکر قائم ایسے ہوتا ہے کہ آپ شیطان کے خلاف ہو جائیں، آپ رب العزت کے دین کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ اور یہ اس یاد کو بھی تازہ کرتا ہے جو جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے کے اثر سے ثابت ہے کہ جب جناب ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربان گاہ کی طرف لے کر جا رہے تھے، شیطان کہہ رہا تھا، ابراہیم کیا کر رہے ہو؟؟ اپنے بیٹے کی گردن پر چھری کیوں چلا رہے ہو؟ آپ اس مقام پر جب کنکر مار رہے ہوتے ہیں درحقیقت آپ اپنے اندر کے سارے بتوں پر کنکر مار رہے ہوتے ہیں۔خواہشوں کو قربان کر رہے ہوتے ہیں، ذکر الہیٰ کو قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے اوپر جو کنکر برسے تھے بیت اللہ کی توہین کی وجہ سے اور اللہ نے اپنی عظمت کو لوگوں کے دلوں میں تازہ کیا تھا۔اس کنکر کی یاد کو تازہ کر تے ہوئے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اے اللہ مصائب کتنے بڑھے ہوں تو ایک کنکر کی علامت سے ختم کر سکتا ہے مایوسیاں کتنی بڑی ہوں، یقین، توکل ، نئی زندگی اور نیا عہد ملتا ہے۔اور میدان عرفات میں چلے جانا یہ تو حج کا خلاصہ ہے۔وہاں خصوصی محنت کریں۔لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لک الملک و لہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر کے عظیم ترانے آپ کی زبان پر جاری ہو جائیں دل و زبان یکجا ہو جائیں تو کچھ بعید نہیں ہے کہ جو نو تاریخ سے پہلے جہنمی تھا اور میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کر دیتے ہیں۔ کوئی ایسا دن نہیں جب لوگوں کو جہنم سے اتنی آزادیاں ملتی ہوں، جس قدرکثرت سے میدان عرفات میں ملتی ہوں۔ میدان عرفات میں ٹھہرنےکی فلاسفی اور حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عالم ارواح میں جو عہد آلست لیا تھا” ألست بربكم”

ایک حسن درجے کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ نے میدان عرفات کے پڑوس میں جبل نعمان پر جمع کر کے لیا تھا۔اور اس عہد کی تجدید آپ میدان عرفات میں کرتے ہیں۔ اے اللہ تو نے وعدہ لیا تھا کہ الست بربکم اور میں اقرار کرنے آیا ہوں کہ لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد آخری گزارش ہے کہ آپ سب نے اپنے آپ کو اللہ کے اتنا قریب سمجھنا ہے کہ میدان عرفات میں دو احرام کی کفن جیسی چادریں پہن کر، پراگندہ حال ، تھکے ہوئے جب آپ جمع ہوتے ہیں تو اللہ آپ پر فخر کررہا ہوتا ہے۔ اور اللہ فرشتوں سے اڈریس کر کے اور بندوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں” لو کانت ذنوبکم ۔۔۔

اے لوگو دور دراز سے آنے والو تم نے ایسی ادائیں ، اور ایسی محبت کا مظاہرہ کیا ہے، تم نے ایسے چکر کاٹے ہیں۔ تم نے میرےدین کے لیے اتنی محنتیں کر لیں ہیں۔ اگر تمھارے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں، ریت کے ذروں کے برابر , یا بارش کے پانی کے قطروں کے برابر بھی ہوں تو جاؤ میں نے تمھیں آج معاف کر دیا ہے اور تمھیں ہی نہیں بلکہ جن کے بارے میں تم نے کہہ دیا ہے کہ انھیں بھی معاف کر دے تو تمھارے کہے کی لاج رکھتے ہوئے، تمھاری سفارش کی وجہ سے انھیں بھی معاف کر دیا۔ اور جب آپ دس تاریخ کو قربانی کرتے ہیں تو آپ حلق یعنی بال منڈواتے ہیں تو سر کے بال اتار دیتے ہیں تو یوں احساس ہوتا ہے جیسے آپ نئے جنم اور نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تب بھی حلق ہوتا ہے۔پھر عقیقہ ہوتا ہے قربانی اس کے مشابہہ ہے۔ گویا آپ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں اے اللہ میں پہلے جو کچھ بھی تھا سو تھا آج میں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ اگر واقعتاً نئی زندگی لے کر آ جائیں سابقہ بوجھ اتار دیں تو پیارشاد ہے:
عن أبي هريرة قالَ: سَمِعْتُ رسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقولُ: منْ حجَّ فَلَم يرْفُثْ، وَلَم يفْسُقْ، رجَع كَيَومِ ولَدتْهُ أُمُّهُ. متفقٌ عَلَيْهِ.
جس نے حج کیا ” جس نے حج كيا اور نہ تو حج ميں بے ہودہ گوئی کی اور نہ ہى فسق و فجور تو وہ ايسے واپس پلٹتا ہے جيسے آج ہى اسے ماں نے جنم ديا ہے”. اور اس نے وہ واپس ایسے پلٹتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ احساسات نصیب فرمائے۔۔آمین

فلسفہ حج (حصہ دوم)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں