ڈاکٹر اسامہ ریاض کی شہادت

ڈاکٹر قوم کے ہیرو ہوتے ہیں۔ وہ خطرناک امراض کے علاج کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر، خطرہ جھیل کر مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ اور بعض اوقات ان مراحل میں وہ اپنی جان سے گزر جاتے ہیں۔کووڈ۔19(جسے عرف عام میں کرونا وائرس کی بیماری کہتے ہیں) کا علاج کرنے والے چند پاکستانی ڈاکٹرز کے ساتھ بھی ایسے ہی معاملات پیش آئے جن میں ڈاکٹر اسامہ ریاض کا نام سرفہرست ہے۔

25سالہ نوجوان پاکستانی ڈاکٹر اسامہ ریاض کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے سے تھا۔ ان کی ڈیوٹی گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے جگلوٹ کے مقام پر لگی ہوئی تھی جہاں پاکستان ایران کے بارڈر پر بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان سے گزر کر زائرین پھر گلگت بلتستان میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ وہاں اسکرينگ مرکز ميں بطور ڈاکٹر متعین تھے۔ وہ روزانہ جٹیال ميں واقع اپنے گھر سے صبح ڈیوٹی پر جاتے تھے اور شام کو گھر واپس آ جاتے تھے۔ ان کے ساتھ چند مزید ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے افراد و ارکان کی ڈیوٹیاں بھی لگی ھوئی تھیں۔
یہاں پر وہ ایران سے واپس آنے والے پاکستانی زائرين کی اسکرينگ کرنے کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ آج کل وہاں کرونا وائرس سے متاثرہ زائرین کی کورونا وائرس کی بیماری کی ٹیسٹنگ کے لیے خصوصاً سکریننگ ہورہی تھی۔ وہ ان چند ڈاکٹروں میں سے تھے جو کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے پاکستان میں فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہے تھے۔
انھوں نے ايک سال قبل بہاول پور کے “قائداعظم میڈیکل کالج” سے “ایم بی بی ایس” کی ڈگری حاصل کی تھی۔ جس کے بعد اپنے علاقے گلگت میں واپس آ کر طب کے شعبے سے وابستہ ہو گئے تھے۔
ان کے والدين نے اپنی ساری جمع پونجی اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے پر لگا دی تھی۔ وہ امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند تھے جس کے بعد وہ اپنے علاقے میں لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے حال ہی میں “ايف سی پی ایس” کا امتحان پاس کیا تھا۔

22مارچ 2020ء بروزجمعہ کی رات کو جب وہ ڈیوٹی سے گھر واپس پہنچے تو بہت تھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے کھانا کھایا اور کھانے کے فوراً بعد سونے کے لیے لیٹ گئے۔ ہفتے کی صبح ان کی طبیعت بہت خراب تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بے ہوش پائے گئے تھے۔ ان کو فوراً قریبی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا جہاں ان کا کرونا ٹیسٹ ہوا جس کا رزلٹ مثبت آیا۔ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق ان کے دماغ اور گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ فیل ہوچکے تھے۔
ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی ليکن وہاں مقامی ہسپتال میں سی ٹی سکین کی سہولت موجود نہیں تھی اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے اصرار کے باوجود انھيں ہیلی کاپٹر سے اسلام آباد نہیں لے جایا گیا۔ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا لیکن ان کی صحت بہتر نہ ہوسکی اور 24 مارچ 2020 ء بروز اتوار کو دو دن کی شدید بیماری جھیل کر وہیں ہسپتال میں ان کی وفات ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے ان کی وفات کی وجہ ضروری طبی سامان کی عدم دستیابی کو قرار دیا ہے۔ حکومت نے ڈاکٹروں کو مکمل میڈیکل کٹس فراہم نہیں کی تھیں جو کرونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اپنی حفاظت کے لیے پہننا نہایت ضروری ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر اسامہ کرونا کے مریضوں کی سکریننگ اور علاج کرتے کرتے خود کرونا کے مریض بن گئے۔ اور بالآخر اسی مہلک بیماری سے وہ شہید ہوگئے۔
ع چند لمحوں میں مکمل اک کہانی ہو گئی

انہوں نے اپنی آخری ویڈیو میں قوم کو مخاطب کرتے ہوئےایک پیغام دیا ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ:
“آج میری طبیعت الحمدللہ آپ کی دعاؤں سے بہت بہتر ہے۔ میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اس بیماری کو مذاق نہ سمجھیں، مذاق نہ بنائیں بلکہ اسے سنجیدگی سے لیں۔ یہ بہت اذیت ناک اور خطرناک بیماری ہے۔ کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کریں۔ اپنی حفاظت کریں اپنے لیے اپنے گھر والوں کے لیے، اپنی قوم کے لیے، اپنی ملت کے لیے۔ میں بار بار آپ سے یہی کہوں گا کہ کرونا وائرس کو مذاق نہ بنائیں، مذاق نہ سمجھیں بلکہ پوری سنجیدگی سے اس کے بارے میں احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ میں آج اپنے آپ کو پہلے کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ تبھی میں آپ سے بات کرنے کے قابل ہوا ہوں۔آپ لوگ اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں۔”
انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذ مہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کیا۔ اور اپنی ذات پر ملک وملت کو ترجیح دی۔
ع میرے حیات و موت کیا، میں تو ہوں جیسے اک دیا
اُس نے جلا دیا جلا، اُس نے بجھا دیا بجھا

ایسے لوگ “قوم کے ہیرو” ہوتے ہیں۔ دیگر کئی ڈاکٹر بھی کرونا کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود اس موذی بیماری کے مریض بن کر اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں تاہم اس سلسلے کی پہلی کڑی ڈاکٹراسامہ ریاض ہیں۔ ان سارے ڈاکٹروں کی قربانیاں ملک و ملت کے لیے بہت اہم ہیں اور پاکستانی قوم اور حکومت کو ان کی خدمات اور قربانیوں کویاد رکھنا چاہیے۔ گلگت بلتستان حکومت کی طرف سے ڈاکٹر اسامہ ریاض کو “قومی ہیرو” کا خطاب دیا گیا ہے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں