بدلتی سوچ

وردہ کی زور دار چیخ کمرے سے بلند ہوئی تو سارے گھر والے بے اختیار کھانے کی میز پر سے اٹھ کر اس کے کمرے کی طرف لپکے ۔
“کیا ہوا؟” سبھی لوگوں کی زبان سے یہ فقرہ تقریباً اکٹھے ہی ادا ہوا تھا۔ وردہ قالین پر بیٹھی اپنا بازو پکڑے زار و قطار آنسو بہانے میں مشغول تھی ۔اس کے قریب کرسی اُلٹی پڑی تھی اور قالین پر مختلف چیزیں بکھری پڑیں تھیں۔ امی جان نے فوراً اسکے پاس بیٹھ کر اسکا سر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔اور بڑے پیار سے اسکے رونے کی وجہ دریافت کی ۔ “کیا ہوا میری گڑیا بیٹی کو؟”

امی جان کی اس ہمدردی سے وردہ کے رونے دھونے میں کمی واقع ہونے کے بجائے اور اضافہ ہو گیا۔ امی جان نے اب عبیرہ کی طرف استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا جو وردہ کو گھورنے کے اہم کام میں مصروف تھی۔ عبیرہ انکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر بول اٹھی۔ “یہ محترمہ ڈر گئی تھی۔”
“لیکن کیوں؟ اس کی کوئی وجہ بھی تو ہو گی۔”
“اس سے خود پوچھ لیں ۔وردہ تم خود کیوں نہیں بتا رہی ہو؟” عبیرہ نے وردہ کو ذرا سختی سے کہا تو ابو جان نے بھی وردہ سے کہا۔ “ہاں بیٹا! تم وجہ بتاؤ گی تو ہمیں پتہ چلے گا کہ تم کیوں رو رہی ہو؟”
“مم…… میں یہاں بیٹھ کر کہانی پڑھ رہی تھی۔ امی جان نے دوپہر کے کھانے کےلیے آواز دی تو میں کہانی رکھ کر اٹھنے لگی، عبیرہ نے پیچھے سے آکر ایک دم مجھے ڈرا دیا۔ ہائے امی… میں کرسی سے نیچے گر گئی اور میرا بازو جسم کے نیچے آ کر بری طرح دب گیا۔ ہاۓ… مجھے ہڈی میں بہت زیادہ درد ہو رہا ہے۔ ہاۓ میرا بازو…”

بہتے آنسوؤں کے ساتھ جب وردہ نے ہائے وائے کے ورد کے ساتھ رک رک کر اپنے رونے کی وجہ بتائی تو سب لوگ عبیرہ کو گھورنے لگے۔ ابو جان نے فوراً آگے بڑھ کر وردہ کا بازو بڑی احتیاط سے ہلا جلا کر دیکھا۔ جب انہیں تسلی ہو گئی کہ کوئی سیریس مسئلہ نہیں ہے تو احمد بھائی سے ٹیوب منگوا کر اس کے بازو پر لگائی۔ پھر عبیرہ کی طرف متوجہ ہوئے ۔
“کیوں عبیرہ! جب تمہیں وردہ کی طبیعت کا پتہ ہے تو تم نے اسے کیوں ڈرایا؟ چڑیا جتنا تو دل ہے اس کا۔ اگر اسے خدانخواستہ کوئی خطرناک چوٹ لگ جاتی تو؟ ”
“ہاں بھئی! تم نے میری بہن کو کیوں تنگ کیا؟” زبیر بھائی نے بھی کڑے تیوروں کے ساتھ اس کی خبر لی۔ ابو جان کی ڈانٹ سے شاید انہیں تسلی نہیں ہوئی تھی۔ ویسے بھی انہیں بڑا بننے اور رعب جھاڑنے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا ۔
عبیرہ زبیر بھائی کی ڈانٹ پر تنک گئی۔ “میرا خیال بھی نہیں تھا کہ آپ کی یہ لاڈلی بہن میرے اچانک آنے پر یوں ڈر کر نیچے لڑھک جائے گی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ معاملہ کچھ اور بھی ہے…” عبیرہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑی اور آگے بڑھ کر میز پر سے کہانیوں والی وہ کتاب اٹھا لی جس کا کچھ دیر قبل وردہ بہت خشوع و خضوع سے ہل ہل کر مطالعہ کرنے میں مصروف تھی۔ “کھنڈرات کے خوفناک مکین” کتاب کا نام با آواز بلند پڑھتے ہوئے اس نے وردہ کے ڈرنے کی اصل وجہ کا انکشاف کیا۔
“اس کے ڈرنے کی اصل وجہ تو یہ کتاب ہے۔” عبیرہ ایسی کتابوں سے بہت الرجک تھی۔ “ایسی خوفناک، ڈراؤنی اور حقیقت سے بعید تر کہانیاں پڑھ کر اسے اب دن میں بھی ڈر نہیں لگے گا تو اور کیا ہو گا؟”
“عبیرہ! اس نے تمہیں بھی کھنڈروں کی کوئی خطرناک مکین سمجھ لیا ہو گا۔” زبیر بھائی نے شریر سے انداز میں کہا تو عبیرہ نے انہیں گھور کر کتاب ابو جان کے ہاتھوں میں تھما دی۔ ابو جی نے کتاب کا سرسری جائزہ لیا جس کے نتیجے میں وردہ کو ہلکی پھلکی ڈانٹ پڑی اور ساتھ ہی گھر میں ایسی کتابوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ زبیر بھائی کا منہ لٹک گیا کیونکہ یہ کتاب گھر میں انہی کے شوق کی بدولت آئی تھی ۔

امی جان نے وردہ کا ہاتھ منہ دُھلایا اور اسے ساتھ لے کر کھانے کی میز تک آگئیں۔ کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ اسے ابھی ساتھ لے کر نہ آئیں تو وہ اپنے رونے دھونے کے پروگرام کو جاری رکھے گی۔ سب سے چھوٹی اولاد ہونے کی وجہ سے وہ انہیں بےحد عزیز تھی ۔ اس کی چھوٹی سی تکلیف بھی وہ اپنے دل پر محسوس کرتی تھیں ۔
وردہ ایسی ہی تھی۔ حساس، کم ہمت اور چھوٹے سے دل کی مالک۔ چھوٹی چھوٹی بات پر ڈرنے، ہمت ہار دینے اور ان کا غم کرنے والی۔ بلی، چوہا، کاکروچ، چھپکلی، جھینگر کی آواز، اندھیرا، تنہائی، تیز ہوا، بارش، بجلی کی چمک اور کڑک غرض ہر چیز اسے خوف دلاتی تھی۔ دل کی اتنی چھوٹی تھی کہ اگر کوئی بہن بھائی اس کا قلم بھی استعمال کر لیتے تو اس کا دل گَھٹ کر آدھا رہ جاتا تھا۔
کچھ عرصہ قبل تک ہی تو وہ ننھی بچی کی طرح امی جان سے لپٹ کر سوتی تھی۔ پھر امی جان نے اسے عبیرہ اور ربیعہ باجی کے کمرے میں منتقل کر دیا۔ کئی راتیں تو اسے صحیح طرح سے نیند نہ آئی تھی ۔ پھر آہستہ آہستہ وہ عادی ہو تی گئی ۔

عبیرہ اس سے ایک سال بڑی بہن تھی ۔ وہ وردہ کے مقابلے میں کافی دلیر تھی اور باحوصلہ بھی۔ اور اپنی چھوٹی پیاری بہن کو بھی ایسا ہی دیکھنا چاہتی تھی۔ اسی لیے وہ اسے وقتاً فوقتاً اس موضوع پر وعظ ونصیحت کیا کرتی تھی جس کا وردہ پر وقتی اثر ہو بھی جایا کرتا تھا ۔ لیکن آج اس کے یوں دن دہاڑے ڈر جانے کا آنکھوں دیکھا حال اسے بتا رہا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں ۔
بڑی کلاسوں میں آ کر وردہ نسبتاً سمجھدار ہو گئی۔ بزدلی اور کم ہمتی، جو اس کی طبیعت کا خاصہ تھی، کم ہونے لگی۔ میٹرک کے سالانہ امتحان میں اس نے بہت اچھے نمبر لے کر وظیفہ حاصل کیا تو کچھ معتبر بھی سمجھی جانے لگی۔ اس میں اساتذہ اور اس کی اپنی محنت کے ساتھ والدین کی محنت و محبت اور بہن بھائیوں کے تعاون و حوصلہ افزائی کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا ۔ خصوصاً ربیعہ آپی کا رویہ اس کے لیے بہت مددگار اور ہمت بندھانے کا باعث تھا۔ وہ جس طرح اس کی پڑھائی میں مدد کے ساتھ ساتھ اس کے کھانے پینے اور آرام کا خیال رکھتی تھیں، وردہ اس کے لیے ان کی بہت شکرگزار تھی۔
کالج میں شروع میں اسے خاصی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ثوبیہ کے ساتھ نے اس کے لیے خاصی آسانی پیدا کردی۔ آہستہ آہستہ وہ کالج میں ایڈجسٹ ہو گئی۔ ثوبیہ اسی کے سکول کی طالبہ تھی لیکن سیکشنز علیحدہ ہونے کی وجہ سے پہلے ان کا صرف سلام دعا کی حد تک رابطہ تھا ۔
ثوبیہ ذہین، خوش مزاج اور ملنسار ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے تعاون کرنے والی لڑکی تھی۔ اسے اس بات کی فکر نہیں ہوتی تھی کہ اگر وہ کسی لڑکی کی پڑھائی میں مدد کرتی ہے تو وہ لڑکی اس سے زیادہ نمبر حاصل کر لے گی۔ اس کی اس اچھی عادت نے اسے کلاس میں پذیرائی عطا کر کے خاصا نمایاں کر دیا تھا ۔
وردہ کو البتہ اکثر پوزیشن حاصل کرنے والوں کی طرح اپنی پوزیشن کی فکر رہتی تھی۔ وہ ثوبیہ کو دوسروں کی مدد کے لئے کمر بستہ دیکھتی تو متعجب ہوتی۔ ایک دن اس نے اپنی طرف سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ثوبیہ کو پوزیشن کا خیال کرنے کا مشورہ دیا تو ثوبیہ کا جواب اسے خاصا حیران کر گیا۔ اس نے اپنی بات پر اصرار کیا تو ثوبیہ نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ “اگر میں کسی کی مدد کرتی ہوں تو میرا اللہ بھی میری مدد کر تا ہے ۔ اس لیے دوسروں سے تعاون کے معاملے میں حتی الامکان ہر قسم کے بخل سے پرہیز کرنے کی کوشش کر تی ہوں۔”
دسمبر ٹیسٹ اور پھر سالانہ امتحان نے بخوبی ثابت کر دیا کہ ثوبیہ کی سوچ درست تھی۔ ثوبیہ نے تقریباً سارے مضامین میں اعلیٰ ترین نمبر حاصل کیے تھے ۔جبکہ وردہ کے نمبر اس سے کم تھے.
وردہ فطرتاً نیک طبع تھی۔ اس کے دل میں ثوبیہ کے لیے حسد پیدا ہونے کے بجائے محبت اور احترام کا جذبہ پہلے سے بڑھ گیا ۔اس نے یہ بات سمجھ لی کہ دوسروں کی مدد کرنا دراصل اپنی مدد کرنا ہے اور دوسروں کے لیے دعا کرنا اپنے لیے دعا کرنے کے مترادف ہے۔بس صرف دل فراخ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انٹر کا سالانہ امتحان حسب معمول اپنے جلو میں خوف اور امید لے آیا اور گزر گیا۔ وردہ نے گزرے وقت سے بہت سی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی تھی اور اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہی تھی۔
اسے مطالعہ کرنا اچھا لگتا تھا۔ گھر کا ماحول اس کے اس شوق کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوا۔ امتحانات کے بعد فراغت کے لمحات اس نے اپنے اس شوق کے ہمراہ بسر کیے۔
اسکا ذوق خاصہ بدل گیا تھا۔ مزاح اسے اچھا لگتا لیکن بامقصد تحریریں اسے اب زیادہ متوجہ اور مائل کرتی تھیں۔ اس نے بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں لیکن اسے سب سے زیادہ متاثر “محمد عربی” (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا تھا۔یہ کتاب اسے ثوبیہ نے ایک موقع پر تحفہ دی تھی۔ اس کے سلیس، رواں اور پر اثر انداز تحریر نے وردہ کو وہ کتاب جلد از جلد جلد پڑھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بعد میں بھی اس نے اس کتاب کو اتنی دفعہ وقتاً فوقتاً پڑھا کہ بہت سارے حصے اسے ازبر ہو گئے۔ ہر دفعہ پڑھنے کے بعد اپنے آپ کو سنت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مطابق ڈھالنے کی خواہش پہلے سے بڑھ جاتی۔ امی جان کا اسے عمل کی طرف توجہ دلانا اس کے عزم میں اضافے کا باعث بنتا۔ قرآن پاک کا ترجمہ باقاعدگی سے امی جان سے پڑھنا اس کے اسی ارادے کی سب سے اہم کڑی تھی۔

تھرڈایئر کے آغاز میں ہی ثوبیہ کے ایکسیڈنٹ کی خبر نے اس کے ہوش اڑادئیے۔ وہ اس کی تیمار داری کے لیے اپنی امی جان کے ہمراہ ہسپتال پہنچی تو اسے اندازہ ہوا کہ ایکسیڈنٹ بہت سیریس تھا۔ خراشوں اور چھوٹی موٹی تکلیفوں کے علاوہ ثوبیہ کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کے بعد ایک ڈیڑھ ماہ کا ریسٹ تجویز کیا تھا۔ اس کے بعد ہی اصل صورتحال کا پتہ چلنا تھا۔ خدانخواستہ اگر ہڈی صحیح نہ جڑی ہوتی تو معذوری کا اندیشہ بھی موجود تھا۔

ثوبیہ کے زخم دیکھ کر وردہ ضبط نہ کرسکی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ثوبیہ نے دیکھا تو تقدیر پر راضی برضا رہتے ہوئے اس کو جو درس دیا، وہ اس کے دل پر رقم ہو گیا۔ ثوبیہ نے کہا تھا۔
“وردہ! یہ زخم تو اللہ تعالیٰ نے میری تقدیر میں لکھ دیے تھے۔ تم میرے لیے دعا کرو کہ میرے یہ زخم جلد از جلد ٹھیک ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہمت و حوصلہ عطا فرمائں۔ ایک مسلمان کے لئے تکلیف پر صبر کرنا تو اس کے درجات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔”

یہ ثوبیہ کا اللہ پر محکم یقین اور دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ وہ ایک ماہ بعد بالکل ٹھیک ٹھاک اپنے قدموں پر چل کر کالج آنے لگی۔ اپنی پڑھائی کی کمی اس نے رفتہ رفتہ وردہ کے بھرپور تعاون سے پوری کرلی۔
دسمبر ٹیسٹ کا آغاز ہونے والا تھا۔ کالج میں پڑھائی اپنے عروج پر تھی۔ کیونکہ بی اے کے داخلے اسی امتحان کے رزلٹ کی بنیاد پر جانے تھے۔ تبھی ایک دن وردہ کو گیارہ بجے گھر سے احمد بھائی بلانے آئے تو وہ چھٹی لے کر پریشان دل کے ساتھ گھر چلی آئی۔ احمد بھائی نے بارہا پوچھنے پر بھی کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔ گھر میں کافی سارے لوگ جمع تھے۔ اس کا بے چین دل عبیرہ اور ربیہ آپی کو روتے دیکھ کر اور پریشان ہو گیا۔ امی اور دادی جان کہیں نظر نہ آئیں۔ بڑے کمرے کے بیچوں بیچ ایک پلنگ رکھا ہوا تھا، جس پر کوئی چادر لپیٹے سو رہا تھا۔ اس کو معاملے کا کچھ اندازہ ہوا۔ اس نے سوچا کہ شاید دادی جان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے “انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھ کر چہرہ دیکھنے کے لیے چادر ہٹائی تو وہاں دادی جان کے بجائے اپنی مہربان اور مشفق ماں کو دیکھ کر اسے گویا سکتہ ہو گیا۔ اپینڈکس (Appendix) اچانک پھٹنے سے جو زہر ان کےجسم میں آنا فانا پھیلا تھا، وہ ان کی موت کا سبب بن گیا تھا۔

وردہ کو لگا کہ اس کا دل غم سے پھٹ جائے گا۔اسے لگا کہ اگر وہ مزید کھڑی رہی تو اس کی ٹانگیں اس کے جسم کا بوجھ سہارنے سے انکار کر دیں گی۔ وہ بے جان قدموں سے نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ ایک قریبی رشتہ دار خاتون نے اس کی کیفیت دیکھ کر اسے فوراً پانی پلایا۔ اس نے بڑی کوشش اور ہمت سے اپنے آپ کو سنبھالا اور دعائیں پڑھنے لگیں۔ امی جان کی زندگی اس کے ذہن کی سکرین پر ریل کی طرح چلنے لگی اور مختلف واقعات یکے بعد دیگرے نمودار ہونے لگے۔ اس کی آنکھیں پھر اشک بار ہوگئیں۔ وہ بار بار امی جان کا چہرہ دیکھ رہی تھی کہ کچھ دیر بعد یہ پیارا اور مانوس چہرہ اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے مٹی میں دفن ہو جانا تھا۔

اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو عبیرہ اور ربیعہ آپی کہیں نظر نہ آئیں۔ البتہ اور بہت سے مانوس اور نامانوس چہرے دکھائی دیے۔ کچھ خواتین اس کی مرحومہ ماں کے تعریف میں رطب اللسان تھیں تو کچھ باآواز بلند رونے میں مصروف تھیں۔ ایسی خواتین بھی موجود تھیں جو اس موقع پر بھی فیشن، مہنگائی اور ساس نندوں کے مسائل کو زیادہ اہم سمجھتے ہوۓ ان پر اظہار خیال کر رہی تھیں۔

اس کے دل کو کچھ ہونے لگا۔ اس کی ماں کو تو اس وقت سب کی دعاؤں کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔ ان خواتین کا بلند آواز سے رونا بھی یقیناً امی جان کے لئے تکلیف کا باعث ہوگا۔ اس نے دکھ سے سوچا اوراسےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے اپنے تقریباً ڈیڑھ سال کے ننھے منے بیٹے ابراہیم کے وفات پر ارشاد فرمائے تھے۔ “انَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا۔”
ترجمہ: “بے شک آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، اور دل غمزدہ ہوتا ہے، مگر ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہوگا۔”

پھر وہ عبیرہ اور ربیعہ آپی کے بارے میں پوچھنے لگی۔ معلوم ہوا کہ عبیرہ دوسرے کمرے میں رو رو کر بے ہوش ہو چکی ہے۔ وردہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں آگئی۔ عبیرہ کا سر ربیعہ آپی کی گود میں تھا اور وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ اسے دوائی پلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کا ننھاسا بیٹا کسی اور خاتون کی گود میں شاید بھوک سے رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد عبیرہ کو ہوش آگیا۔ اس نے وردہ کو دیکھا تو اس سے لپٹ کر رونے لگی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ وردہ کا دل کٹنے لگا۔ اس نے بمشکل اپنے آنسو ضبط کیے اور عبیرہ کو تسلی دیتے ہوئے امی جان کے لیے دعا کی تلقین کی۔
لوگ باری باری آ رہے تھے۔ ثوبیہ آئی تو اس نے وردہ کو گلے لگا لیا۔ وردہ کو ثوبیہ کا کہا ہوا ایک فقرہ یاد آگیا۔
“مسلمان کے لیے کسی آزمائش پر صبر اس کے درجات میں اضافہ کا باعث بنتا ہے.”
وردا کی توانائیاں بیدار ہونے لگیں اور اس نے ہمت اور حوصلہ کا دامن از سرنو پکڑ لیا۔ وقت دھیرے دھیرے سرکتا رہا۔ وردہ نے جس صبر و تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا تھا، وہ سبھی کے لیے حیران کن ثابت ہوا۔ وہ سارا وقت نہ صرف خود حوصلہ میں رہی بلکہ دوسروں کو بھی حوصلہ دلاتی اور دعا کی طرف متوجہ کرتی رہی۔ امی جان کو نہلا دھلا کر اور کفن پہنا کر آخری آرام گاہ کے طرف پہنچانے کی تیاریاں مکمل ہوگئیں۔ وردہ نے آخری بار اس محبوب چہرے کا دیدار کیا۔ نور کی کرنیں پھوٹ کر گواہی دے رہی تھی کہ اس چہرے نے اللہ کی رضا کو ہمیشہ مقدم سمجھا تھا۔ وردہ دعا کرتی ہوئی اس یقین کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی کہ ہم بھی اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں بھی لوٹ کر کے پاس جانا ہے۔

وردہ کے صبر کو بعض خواتین نے بے حسی پر محمول کیا اور باتیں بنانے لگیں۔ ممانی جان سے ضبط نہ ہوسکا تو اگلے روز اسے بٹھا کر بڑی محبت سے ایک طویل لیکچر دیا۔جس کا لب لباب یہ تھا کہ جس ماں نے اس کے لاڈ اور نخرے برداشت کیے، اس کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف اپنے دل پر محسوس کی، اس سے ہر معاملے میں تعاون کیا اور اسے پھولوں کی طرح رکھا تو اسے اس ماں کی وفات پر اس کٹھور پن کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وردہ کا ان کا لیکچر سنا اور آنسو پیتے ہوئے بڑے زبردست سے کہنے لگی۔
“ماں کا رشتہ واقعی رگوں میں بہنے والے خون کی طرح ہوتا ہے جس کے بغیر جینا بھی بظاہر مشکل لگتا ہے لیکن جب میں یہ سوچتی ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال پر صحابہ کرام نے اس مہربان، مشفق اور محبوب ترین ہستی کی جدائی صبر و تحمل اور حوصلے سے برداشت کر لی تھی تو مجھے بھی اپنے عزیز اور پیاری ماں سے ابدی جدائی پر صبر آنے لگتا ہے اور میں ان کے لئے دعا کرنے لگتی ہوں۔”
ممانی جان وردہ کو حیرت اور شرمندگی سے دیکھتے ہوئے یہ سوچنے لگیں کہ کیا یہ وہی وردہ ہے جو ذرا ذرا سی بات پر حوصلہ ہار جاتی تھی؟ جس کی چھوٹی سی چیز بھی اگر کوئی استعمال کر لیتا تھا تو اس کا دل کم ہونے لگتا تھا؟ اب کتنے حوصلے اور اچھی سوچ کے ساتھ ماں کی جدائی پر صابر و شاکر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس کا ایمان پختہ ہو چکا ہے اور اس کا دل حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور ہے۔ اس لئے اس کی سوچ کا انداز بدل چکا ہے اور اب وہ حقائق کا سامنا بہادری سے کر رہی ہے۔
اور حقیقت یہی ہے کہ
“جب شعور ایمان اور حب رسول سے دل معمور ہوجائے تو سوچ کے انداز خود بخود بدل جاتے ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں