تعطیلات میں طلباء وطالبات کے لیے ہدایات

کرونا وائرس کی وجہ سے پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں بشمول دینی مدارس میں چھٹیاں کر دی گئی ہیں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی یہ وبا اور تعلیمی اداروں کی تعطیلات دونوں ہی پریشانی کا باعث ہیں۔ حساس دلوں کو وہ غم و الم لاحق ہو رہا ہے جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ لیکن عصر حاضر کے ان حالات میں نہایت ضروری ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گیے حفاظتی اقدامات اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں محدود اور محصور ہوجائیں اور حکومت کی ذمہ داریوں میں حکومتی اہلکاروں کا مکمل ساتھ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں۔ احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر اختیار کرنے میں سب لوگوں کی بھلائی ہے۔
ع توکل کے یہ معنی ہیں کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر

جامعہ کے تمام طلباء و طالبات کے لیے چند اہم ہدایات

رمضان المبارک کی ایک مہینے کے بعد آمد ہے۔ لہٰذا ان چھٹیوں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ عبادات اور چھوٹی بڑی نیکیاں کرنے کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ ماہ رمضان بہترین طریقے سے گزار سکیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کما سکیں۔ تعطیلات کے بعد جب طالبات واپس آئیں تو ان پر کی گئی محنت کی چھاپ موجود ہو۔ امام شافعی ؒ رحمہ اللہ نے چند اشعار میں بڑی جامعیت سے بیان کیا ہے کہ علم اللہ کا نور ہے اور یہ صرف نیک اورعالم باعمل لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے،ان اشعار کا خلاصہ یہ ہے کہ:
’’میں نے اپنے استادِمحترم حضرت وکیع رحمہ اللہؒ سے حافظے کی کمزوری کی شکایت کی، تو انھوں نے مجھے وصیت کی کہ:گناہ کرنا چھوڑدو، اس لیے کہ یہ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ تعالیٰ کا نور گناہ گار کونہیں ملتا۔ جس علم کے حصول کے دوران گناہوں سے پرہیز کی کوشش نہیں کی جاتی، وہ علم کبھی پائیدار نہیں بنتا، اگر حاصل ہوبھی جائے تو کارآمد نہیں بنتابلکہ بسا اوقات ایسا علم گمراہی کا بھی باعث بن جاتا ہے۔‘‘

ہدایات درج ذیل میں دی جارہی ہیں تاکہ ان پر عمل پیرا ہوکر علم دین کے طلباء و طالبات اپنے یہ شب و روز اور آنے والا رمضان بہترین طریقے سے گزار سکیں۔

1۔ نماز پنجگانہ باقاعدگی کے ساتھ اور بروقت ادا کریں۔ لاک ڈاؤن کی صورت میں اگر مرد حضرات گھر میں نماز کی ادائیگی کریں تو ان کے ساتھ گھر کی خواتین نماز باجماعت کی ادائیگی کا اہتمام ضرور کریں۔ اس کے علاوہ ہر وقت باوضو رہنے کی مکمل کوشش کریں۔ یہ نیکیاں کمانے کا ذریعہ بھی ہے اور کرونا بیماری سے بچنے کے لئے بہترین احتیاطی تدبیر بھی۔
اس کے علاوہ نماز میں نسبتاً لمبی قرآت کیا کریں۔ قرآن مجید کا حفظ کیا ہوا حصہ یعنی چھوٹی بڑی سورتیں نماز میں ضرور تلاوت کیا کریں۔ اس طرح حفظ کی ہوئی سورتیں یاد رہتی ہیں۔
2۔ نماز کے بعد کی تسبیحات اور اذکار پورے خیال اور توجہ کے ساتھ پڑھیں۔

3۔ روزانہ صبح قرآن مجید ناظرہ کی تلاوت کریں۔ کوشش کریں کہ ان پندرہ دنوں میں روزانہ دو پاروں کی تلاوت اس طرح کریں کہ پندرہ دن میں قرآن مجید ناظرہ کی تلاوت مکمل ہوسکے۔ صبح کے علاوہ ہر نماز کے بعد کم از کم ایک دو رکورع پڑھنے کی عادت بھی ڈالیں۔

4۔ قرآن مجید ترجمہ و تفسیر کا سبق روزانہ پڑھیں اور کم از کم نصف پارہ کی دہرائی کریں۔ یاد رکھیں کہ کہ تعطیلات ختم ہونے اور ادارہ جات کے کھلنے کے فوراً بعد امتحانات کا آغاز ہو جائے گا۔

5۔ اسائنمنٹس کا تحریری طور پر کرنے کے لیے جو کام دیا گیا ہے، اس کو احسن طریقہ سے بروقت مکمل کریں۔

6۔ صبح و شام کے اذکار بھی باقاعدگی اور وقت کی پابندی کے ساتھ پڑھیں۔
7۔ کرونا وائرس اور دیگر بیماریوں سے بچنے کے لئے قرآنی اور مسنون دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں۔
نوٹ: چند قرآنی اور مسنون دعائیں آخر میں دی گئی ہیں۔

8۔ نماز اور قرآن مجید پڑھنے کے بعد دل لگا کر اللہ تعالی سے خشوع و خضوع سے دعائیں مانگیں اپنے لیے، اہل خانہ کے لیے، ملک و ملت کے لیے کہ “یااللہ! ہم سب کو کرونا بیماری اور دیگر بیماریوں، ہر قسم کی آفتوں اور آزمائشوں سے محفوظ رکھنا، دین پر استقامت عطا فرمانا، سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت عطا فرمانا۔” اور دیگر دعائیں بھی مانگیں۔

ان تمام کاموں کے لئے بہترین وقت صبح فجر کی نماز سے لے کر نماز اشراق تک کا ہے۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد، نماز کے بعد کے اذکار اور صبح کے اذکار پورے دھیان اور توجہ کے ساتھ پڑھیں۔ یہ مسلمان کے لیے “حصن المسلم” یعنی حفاظتی قلعہ ثابت ہوتے ہیں۔ قرآن مجید ناظرہ کی تلاوت کریں، پھر ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پارہ پڑھیں۔ حدیث یا سیرت کی منتخب شدہ کتاب میں سے بھی مطالعہ ضرور کریں۔ طلوع آفتاب کے بعد نماز اشراق کے نوافل ادا کر کے جائے نماز سے اٹھیں۔
لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں سکون کے ساتھ احسن طریقہ سے نماز فجر سے نماز اشراق تک عبادت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس طرح کہ اب نہ تو کہیں جانے کا معاملہ ہے (قرآن کلاسز تک بند ہوگئی ہیں)، نہ کسی نے گھر میں آنا ہے، نہ کوئی بیل بج رہی ہے، نہ کوئی اور مصروفیت ہے۔ اب صبح بر وقت اٹھنے اور اس مبارک وقت میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی ہمت خود کرنی ہے۔ اگر اچھے طریقے سے بروقت منصوبہ بندی کرلیں تو روزانہ نماز فجر سے نماز اشراق کا وقت بہترین طریقہ سے عبادت اور نیکیاں کمانے میں گزارا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اوقات میں بھی اذکار، دعاؤں اور دیگر نیکیاں کمانے پر توجہ مرکوز رکھا کریں۔

9۔ حسب استطاعت اپنے ہاتھوں سے صدقہ و خیرات کریں۔ اپنے ضرورت مند قریبی رشتہ داروں، ہمسایوں، میل جول والے لوگوں کا خیال رکھیں۔ کوشش کریں کہ روزانہ کی بنیاد پر صدقہ کریں خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کے حالات سے واقف رہا کریں۔

10۔ نماز، قرآن مجید کی تلاوت و تفسیر، دعا و استغفار اور دیگر عبادات میں پہلے سے زیادہ وقت صرف کریں اور “رجوع الی اللہ” و “رجوع الی القرآن” کا خصوصی دھیان رکھیں اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی اس طرف متوجہ کریں۔

11۔ بعض لوگ ان دنوں میں مختلف بدعتوں کو رواج دے رہے ہیں مثلاً سورۃ النوح کی اتنی دفعہ تلاوت کریں، گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں، اتنے کروڑ مرتبہ آیت کریمہ کا ورد کریں وغیرہ اس طرح کے میسجز اور اعمال سے بچیں.

اجتماعی طور پر آیت کریمہ پڑ ھنا یا ایک وقت میں دنیا کے مختلف علاقے کے لوگوں کا ایک طرح کے اذکار کرنا یا اجتماعی استغفار کرنا بدعت ہے. کسی طرح کا کوئی بھی ذکر اجتماعی طور پر یا بلند آواز سے کرنا ثابت نہیں. سواۓ حجاج کی تلبیہ ( لبیک اللہم لبیک۔۔۔) کے جس میں حاجی بلند آواز میں تلبیہ پکارتے ہیں لیکن اس میں بھی تکلفا آواز ملانا ممنوع ہے۔

12۔ ان ایام میں گھروں کے اندر قرار پکڑیں یعنی ٹک کر رہیں اور لاک ڈاؤن کے شب و روز میں ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔
آجکل خوشی و غمی اور دکھ سکھ کے موقع پر بذات خود جا کر شامل ہونے کے بجائے فون پر عیادت و تعزیت کرلیں اور فون پر خوشی کی باتیں اور مبارک باد وغیرہ شئیر (share) کرلیں۔ بقول شاعر
فاصلوں کے فیصلے اور یہ فصیل اجتناب
فصلِ گل کے واسطے ہیں دوریوں کا انتخاب

ان ایام میں گھروں میں رہتے ہوئے اس حدیث پر عمل کریں۔
” اپنی زبان پر قابو رکھیں، اپنے گھر میں رہیں اور اپنی خطاؤں پر روتے رہیں۔” (سنن ترمذی: 2406)
فتنوں کے دور میں خصوصاً حکم فرمایا گیا ہےکہ : “تم اپنے گھر سے چمٹے رہو۔” (سنن ابی داؤد: 4626)

13۔ گھریلو امور میں اپنی والدہ اور اہل خانہ کی مدد کریں اور اپنی گھریلو ڈیوٹیوں کو صحیح طریقے سے ادا کریں۔

14۔ گھر میں بہن بھائیوں کے ساتھ لمبی لمبی لڑائیاں اور جنگیں نہ لڑیں بلکہ سکون و عافیت کے ساتھ رہیں اور گھر کے ماحول کو پرامن اور پرسکون بنانے میں پوری طرح مددگار ثابت ہوں۔ ان دنوں میں زیادہ عبادت کریں، ماں باپ کی زیادہ خدمت کریں، ان کو یادگار دنوں کے طور پر بہترین طریقے سے گزارنے کی کوشش کریں۔

15۔ قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر سے جو کچھ سیکھا ہے، اس کے مطابق حسب موقع اور حسبِ ضرورت تمام اہل خانہ (بشمول والدہ تائی، چچی وغیرہ )، اپنے بہن بھائیوں اور دیگر چھوٹے بچوں یعنی بھانجوں اور بھتیجوں وغیرہ کو (اگر ممکن ہو تو) کلاس کی شکل میں باقاعدگی سے پڑھائیں اور ان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ڈالیں۔

16۔ طالبات اپنی ماؤں اور بڑی بہنوں کے ساتھ گھروں کی تفصیلی صفائی و دھلائی اور دیگر امور میں حصہ دار بنیں۔ اور ان کو بہم آرام پہنچائیں۔
طلباء اپنے باپوں اور بڑے بھائیوں کے ساتھ حسبِ ضرورت اندرونی و بیرونی کاموں میں ان کےمعاون اور دست و بازو بنیں۔

17۔ طالبات ماؤں کے ساتھ سردیوں کے کپڑے اور بستر وغیرہ سنبھالیں اور گرمیوں کے کپڑے وغیرہ نکال لیں اور ان کی دھلائی وغیرہ کر لیں۔ پھٹے ادھڑے کپڑوں کی سلائی لگائیں یعنی ٹانکے لگائیں،اور ان کی مرمت کریں۔

18۔ رمضان المبارک کی آمد قریب ہوتی جارہی ہے۔ اس کے لیے بھی جسمانی، ذہنی، اور روحانی تیاری کریں۔ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا دیں، پیر اور جمعرات کا مسنون روزہ رکھنے کی عادت ڈالیں۔ صبح و شام دو وقت کھانے کی عادت برقراررکھیں۔ بلکہ صبح کو جلدی اور شام کو مغرب سے پہلے یا بعد کھانے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان المبارک میں اس روٹین کی وجہ سے روزہ رکھنے میں آسانی رہے۔

19۔ اپنے وقت کو ضائع نہ کریں بلکہ بہترین طور پر اس طرح استعمال کریں کہ وقت زندہ ہو جائے اور لمحہ لمحہ پر نیکیوں کی مہر لگ جائے۔ چغلی و غیبت، حسد، جھوٹ، دھوکہ دہی اور دیگر گناہوں سے باز رہیں اور شعوری طور پر نیکیاں کمانے کی پوری کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کرونا وائرس کی بیماری اور دیگر بیماریوں سے بچائے اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

کرونا اور دیگر بیماریوں سے بچنے کے لیے مسنون دعائیں

ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بیماریوں کے علیحدہ علیحدہ نام لے کر دعائیں نہیں بتائیں۔ نہ ایسا ممکن ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے چند ایسی جامع دعائیں ضرور بتائی اور سکھائی ہیں جو عام حالات میں بھی جاری رہنی چاہئیں۔ وبائی بیماریوں اور ایمرجنسی حالات میں تو ان کا اور زیادہ اہتمام ہونا چاہیے۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
1۔ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِى وَتُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْ)
ترجمہ: ’’صبح و شام سورۃ قل ھو اللہ احد (اخلاص) اور معوذتین (سورہ الفلق اور سورہ الناس ) تین تین دفعہ پڑھیں، یہ آپ کے لیے ہر چیز سے کافی ہو جاتی ہیں۔‘‘

2۔ (مَنْ قَرَأَ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِى لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ)
ترجمہ: ’’جس نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو سونے سے پہلے پڑھ لیں تو یہ اس کے لئے کفایت کر جاتی ہیں۔‘‘ (یعنی ہر آفت، برائی اور شر سے)

3۔ درود ابراہیمی کا اہتمام
درود شریف کاکثرت سے اہتمام کرنا انسان کے بہت سے مسائل کا حل اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہوتا ہے۔

صبح و شام کے اذکار میں کئی دعائیں ہمارے لیے ہر چیز، ہر پریشانی، ہر بیماری وغیرہ سے کافی ہو جاتی ہیں۔ مثلاً
4۔ (بسم اللَّهِ الَّذِى لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَىْءٌ فِى الأَرْضِ وَلاَ فِى السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) (سنن ترمذی : 3388) حدیث صحيح.
ترجمہ: ’’اللہ کے نام سےشروع ہے جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘
جس نے یہ مسنون دعا صبح وشام تین تین مرتبہ پڑھی، اسے زمین وآسمان میں موجود کوئی چیزاس دن میں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

5۔ (اللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ الْبَرَصِ، وَالْجُنُوْن، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَیِّئُ الْأَسْقَامِ) (سنن ابی داؤد: 1554) حدیث ﺻﺤﻴﺢ.
ترجمہ: ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ پن اور تمام بری بیماریوں سے۔‘‘

6۔ (أعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ)
ترجمہ: ’’میں اللہ تعالیٰ کے کامل ناموں کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔‘‘

جو شخص یہ دعا شام تین دفعہ پڑھے اسے اس رات کوئی زہریلی چیز نقصان نہیں دے سکتی۔
7۔ أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ (صحیح بخاری)
ترجمہ:” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ہر قسم کے شیطان، زہریلے جانور اور لگنے والی (بری) نظر سے.”

ایک اور بہت خوبصورت اور جامع دعا صبح وشام کے اذکار میں سکھائی گئی ہے:
8۔ (اللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُك َالْعَفْوَ وَ الْعَافِيَةَ فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ،اللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِى دِينِىْ وَدُنْيَاىَ وَأَهْلِى وَمَالِى، اللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِى، وَآمِنْ رَوْعَاتِى، اللّٰهُمَّ احْفَظْنِى مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ وَمِنْ خَلْفِيْ وَعَنْ يَمِينِيْ وَعَنْ شِمَالِيْ وَمِنْ فَوْقِيْ وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي)
ترجمہ ـ: ’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں۔ اے اللہ! میرے عیوب چھپا دے، میرے دل کو مامون کر دے، اور میرے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اور اوپر سے میری حفاظت فرما۔ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کیے جانے سے۔ ‘‘

صبح وشام کے اذکار میں ایک اور بڑی پیاری اور خوبصورت دعا ہمیں سکھائی گئی ہے جو صبح وشام تین تین دفعہ پڑھتے ہیں، جس سے جسم اور اس کے مختلف بنیادی اعضاء و حسیات کی اہمیت اور ان کی حفاظت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
9۔ (اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔)
(سنن ابی داؤد :5090)
ترجمہ: ” اے اللہ! مجھے میرے جسم میں عافیت عطا فرما۔ اے اللہ مجھے میری سماعت میں عافیت عطا فرما۔ اے اللہ مجھے میری آنکھوں میں عافیت عطا فرما۔تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔”

جب مرض (وائرس) والے کو دیکھیں تو یہ دعا پڑھیں، آپ زندگی بھر اس سے محفوظ کر دیے جائیں گے . إن شاء اللہ.
«اﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ اﻟﺬﻱ ﻋﺎﻓﺎﻧﻲ ﻣﻤﺎ اﺑﺘﻼﻙ ﺑﻪ، ﻭﻓﻀﻠﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻤﻦ ﺧﻠﻖ ﺗﻔﻀﻴﻼ»
( سنن ترمذی : 3431) حدیث حسن.

اپنا تبصرہ بھیجیں