آزادی نسواں کا فریب

ایک تخلیق کار بہتر طور پر جانتا ہے کہ اس کی تخلیق کی ہوئی چیز کے لیے کیا چیز موزوں ہے ، اور کیا چیز مناسب نہیں ہے۔اسی طرح رب العزت نے عورت کی تخلیق فرمائی اور جو دائرہ کار اس کے لیے مناسب تھا وہ اسے سونپا۔اور اسی میں اس کے لیے خیر ہے۔ لیکن ہماری عورت ایک ایسے جال میں پھنس گئی ہے جو اہل مغرب نے آزادی اور حقوق کے نام پر بچھایا ہے۔ اور اس کا مقصد تحفظ اور چادر، چار دیواری کے حصار سے نکال کر اس کا شکار کرنا ہے۔ جس طرح مغرب میں اس کو آزادی کی بھینٹ چڑھا کر اور اسے اس کی حدود سے نکال کر اس کی نسوانیت کو ختم کرنے کی سر توڑ کوشش کی گئی۔ یہ بات اگر میں کہوں تو بنیاد پرستی اور قدامت پرستی کے طعنے میرے منتظر ہوں گے۔ کیونکہ یہ ہماری قوم کا شیوہ ہے کہ سچ بات کہنے والوں کی بات ہضم نہیں ہوتی۔جس طرح آج کل مشہور مصنف خلیل الرحمٰن قمر آزادی نسواں کے بارے میں حق بات کہہ کے نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اور اسی صورتحال کے بارے میں حکیم الامت نے یوں فرمایا تھا۔

کیا فائدہ، کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب۔
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند۔

اس لیے پہلے میں ان کا اپنا خیال پیش کروں گی کہ جنہوں نے یہ جال بچھائے ہیں اور پھر وہ تو پچھتا رہے ہیں اور ہم ہیں کہ اس فریب پہ دل وجان سے بچھے جا رہے۔
یاد رکھیے!!
جس ماحول میں معاشرے کی پاکیزگی کوئی قیمت اور معنی ہی نہ رکھتی ہو اور جہاں عفت و عصمت کے بجائے اخلاق باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ وہاں اس تقسیم کار اور پردہ و حیا کو نہ صرف غیر ضروری، بلکہ راستے میں رکاوٹ سمجھا جائے گا۔ مغرب میں آزادی نسواں اور ہر معاملے میں عورت کو مساوات کے نام پر مردوں کے دوش بدوش لانے کا جو غیر متوازن تصور ابھرا ہے وہ اسی مقصد کا حصہ ہے۔ اس کے حوالے سےسوویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کا نظریہ ملاحظہ کریں۔ جو انہوں نے اپنی کتاب میں “status of women” کے عنوان سے لکھا ہے۔
“ہماری مغرب کی سوسائٹی میں عورتوں کو گھر سے باہر نکالا گیا، اور اس کو گھر سے باہر نکالنے میں بیشک ہم نے کچھ فوائد حاصل کئے ہیں اور پیداوار میں کچھ اضافہ ہوا، اس لئے کہ مرد بھی کام کررہے ہیں اور عورتیں بھی کام کررہی ہیں۔ لیکن پیداوار کے زیادہ ہونے کے باوجود اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہوگیا اور اس فیملی سسٹم کے تباہ ہونے کے سلسلے میں ہمیں جو نقصانات اٹھانا پڑے ہیں وہ نقصانات ان فوائد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جو پروڈکشن کے اضافے کے نتیجے میں ہمیں حاصل ہوئے۔ لہٰذا میں اپنے ملک میں پرو اسٹرائیکا کے نام سے ایک تحریک شروع کررہا ہوں اس میں میرا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ عورت جو گھر سے باہر نکل چکی ہے اس کو گھر میں واپس کیسے لایا جائے؟ اس کے طریقے سوچنے پڑیں گے ورنہ جس طرح فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ہے اسی طرح پوری قوم تباہ ہوجائے گی۔”
کاش ہمارے لبرلز اور آزادی کی خواہاں آنٹیاں اور موم بتی مافیا بھی اس پر غور کر لے ۔ اور اسی حوالے سے عورتوں کو ان کا مقام یاد کرواتے ہوئے شاعر مشرق نے خوب فرمایا ہے:-

اس بحث کا کچھ فیصلہ مَیں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے، وہ قند۔

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں، معذور ہیں، مردانِ خِرد مند۔

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادیِ نِسواں کہ زمرّد کا گُلوبند۔

اسلام کے مطابق جس نے عورت کو انمول ہیرا اور قیمتی متاع قرار دیا ہے۔ اسی کی روشنی میں خواتین سے التماس کرتی ہوں کہ جنہوں نے آزادی اور مساوات مردو زن کی تحریکیں شروع کی تھیں ان کے ہاں تو عورت کا کوئی مقام نہ تھا۔۔لیکن آپ کو تو اسلام نے بہت اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا ہے۔ “وقرن فى بيوتكن” کا ارشاد فرما کر ایک انمول خزانہ ہی نہیں بنایا بلکہ نسل نو کی تربیت کا فریضہ سونپ کر معاشرتی، تمدنی اور اسلامی ترقی کا امین بنا دیا۔ اس لیے آپ اپنے وقار اور عظمت کو داؤ پر لگا کر چند مغرب زدہ عورتوں اور دو ٹکے کی لبرلز آنٹیوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔
خدارا!!! قدرت نے جو عظیم ذمہ داریاں سونپی ہیں ان کو نبھا کر دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کریں، اسلام کی آغوشِ فطرت میں پناہ لیں جس کا ہر حکم انسانیت کے لیے راحت اور خواتین کے حقوق کا ضامن ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو آپ اہل مغرب کے دام فریب میں پھنس کر
“میرا جسم اور میری مرضی” کے نعرے لگا کرنہ صرف دنیا میں اپنا اعزاز کھودیں بلکہ آخرت میں عذاب الہی کی حق دار بھی ٹھہریں۔ اس لیے اپنے مقام کو پہچانیں، اور اس وطن سے ارض مغرب کی طرح شرم و حیا کو نیلام نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں